حماس نے 11 سال قبل ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجی کی لاش واپس کر دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
غزہ:
اسرائیل کو 11 سال بعد 2014 کی غزہ جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجی لیفٹیننٹ حدار گولڈن کی لاش واپس مل گئی ہے جسے حماس نے اس وقت سے اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق 23 سالہ لیفٹیننٹ گولڈن کی باضابطہ شناخت کرلی گئی ہے اور اب انہیں اسرائیل میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ وہ والدین، ایک بہن، دو بھائیوں اور منگیتر کو سوگوار چھوڑ گئے۔
حماس کے عسکری ونگ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت وہ لیفٹیننٹ گولڈن کی لاش واپس کرے گا۔
اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس اب تک 20 زندہ یرغمالیوں اور 28 میں سے 24 جاں بحق افراد کی لاشیں واپس کر چکی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر آئزک ہرزوگ نے بتایا کہ وہ گزشتہ 11 سال سے اپنے دفاتر میں لیفٹیننٹ گولڈن کی تصویر رکھے ہوئے تھے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے مطابق گولڈن کی واپسی کے لیے گزشتہ ایک دہائی کے دوران خفیہ معلومات اور زمینی کارروائیوں پر مبنی وسیع کوششیں کی گئیں۔
فوج نے گولڈن کے خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام جاں بحق یرغمالیوں کی واپسی کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔
اسرائیلی فورسز کے مطابق غزہ میں اب بھی چار یرغمالی موجود ہیں جن میں تین اسرائیلی اور ایک تھائی شہری شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گولڈن کی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔