جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے بند نہ ہوئے‘ شہدا کی تعداد 79 ہزار سے متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے بند نہ ہوئے اور 8 اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 79ہزار سے اوپر چلی گئی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والی عمارتوں اور دیگر مقامات کے ملبے میں دبی فلسطینیوں کی لاشوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے مزید 15 فلسطینی قیدیوں کی میتیں فلسطینی حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ جواب میں حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کی، غزہ میں رہ جانے والے یرغمالیوں کی لاشوں کی تعداد 5 رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ لبنان پر بھی اسرائیل کے حملے جاری ہیں جس میں 3 افراد شہید ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔