حماس کی جانب سے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیلی حکام کے سپرد
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: حماس نے جمعے کو (8 نومبر) ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش بین الاقوامی کمیٹی صلیبِ سرخ (آئی سی آر سی) کے ذریعے اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی۔
اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر تصدیق کی ہے کہ موصولہ لاش ممکنہ طور پر یرغمالی کی ہے اور اس کی شناخت کے لیے فرانزک ٹیسٹ جاری ہیں۔ یہ حوالگی اس امریکی ثالثی معاہدے کے تناظر میں عمل میں آئی ہے جو غزہ تنازعے کے دوران زندہ یرغمالیوں اور شہدا کی لاشوں کی واپسی کے لیے طے پایا تھا۔
اس معاہدے کے تحت تبادلے کی شرائط کے عین مطابق دونوں جانب سے لاشوں کی حوالگی کے سلسلے جاری ہیں، تاہم اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ غزہ میں ابھی بھی متعدد یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں جنہیں فوراً حوالہ کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ پٹی میں حماس کے سرنگی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا کہ اگر سرنگیں ختم کر دی جائیں تو حماس کی جنگی صلاحیت بھی کم ہوجائے گی — ان کے الفاظ میں “اگر سرنگیں نہ ہوں تو حماس نہیں ہوگی۔
اسرائیلی دفاعی قیادت کی جانب سے مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ فوجی کارروائی محض عسکری قیادت یا جھڑپوں کو غیر مسلح کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا ایک بڑا ہدف حماس کے زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک کو تباہ و برباد کرنا بھی ہے۔ دفاعی حکام نے کہا ہے کہ یہ ہدایت خاص طور پر اُن علاقوں (جنہیں اسرائیل “ییلو زون” کہتا ہے) کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے جو اسرائیلی کنٹرول میں آچکے یا جن پر عملی طور پر ترجیحی آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔