ن لیگ کا کردار شرمناک، سارا کچھ اقتدار کی ہوس میں ہوا، وجیہ الدین
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) وجیہ الدین نے ن لیگ کا کردار شرمناک، سارا کچھ اقتدار کی ہوس میں ہوا، 27ویں ترمیم کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے گناہ کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی سیاہی خشک نہ ہوئی تھی کہ 27ویں ترمیم آگئی۔ اور وہ بھی ایسے کہ جس سے مولانا فضل الرحمان نے خلاصی حاصل کی تھی وہ پھر سے وارد ہوگیا۔ آئینی ترمیم نہایت سنجیدہ عمل ہوتا ہے، مگر اسے اتوار کے روز اس وقت متعارف کرایا گیا جب تک کابینہ نے بھی اس کی منظوری نہ دی تھی اور وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں ملک میں نہ تھے۔ شاید کسی حکمت عملی کے تحت، اس ترمیم نے سپریم کورٹ کے جسد سے روح نکال کر انتظامیہ کے تشکیل کردہ ایک ادارے وفاقی آئینی عدالت میں پھونک دی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس نئی عدالت کے جج عدلیہ کے نہیں بلکہ وزیر اعظم کے نامزد کردہ ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔