Jasarat News:
2026-06-03@06:20:06 GMT

چرچل کا انجام، زرداری کا انعام

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251112-03-5

 

عبید مغل

وہ لمحہ جب لندن کی فضا میں دھواں، چیخیں اور بموں کی گونج تھی۔ تب اْس کے الفاظ اہل ِ برطانیہ کے دلوں میں حوصلے کے چراغ جلا رہے تھے۔ وہ ونسٹن چرچل تھا۔ ایک ایسا سیاستدان جس نے اپنی زبان کو تلوار، اور اپنے عزم کو ڈھال بنا لیا۔ جب ساری دنیا سمجھ چکی تھی کہ نازی لشکر برطانیہ کو نگل جائے گا، تب اْس نے کہا: ’’ہم ساحلوں پر لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، مگر ہار نہیں مانیں گے!‘‘ اْس کے یہ الفاظ لندن کی ویران گلیوں میں گونجے۔ ملبے تلے دبے لوگ بھی ایک دوسرے سے کہنے لگے: ’’ہم ہار نہیں مانیں گے!‘‘ چرچل نے اپنی قوم کو ہار سے بچا لیا، مگر وہ خود ووٹ کی طاقت سے ہار گیا۔

جنگ عظیم دوم ختم ہوئی تو برطانیہ بچ گیا، مگر 26 جولائی 1945ء کے عام انتخابات نے وہ منظر دکھایا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یعنی برطانوی عوام نے اپنے ہیرو کو سلام تو کیا، مگر اقتدار اس سے چھین لیا۔ لیبر پارٹی کا کلیمنٹ ایٹلی وزیراعظم بنا اور چرچل اپنے گھر لوٹ گیا۔ خاموش، مگر سر بلند۔ یہ واقعہ جمہوریت کی معراج تھا۔ برطانوی قوم نے بتادیا کہ ہیرو کا احترام الگ، قانون کی بالادستی الگ ہے۔ جمہوریت تاج نہیں جو کسی کے سر پر ہمیشہ کے لیے رکھا جائے۔ یہ امانت ہے جو صرف عوام کی مرضی سے دی جاتی ہے۔ چرچل نے اپنی فوج کی فتح کے باوجود خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا اور باشعور عوام نے بھی اْسے تخت سے اُتار کر یہ پیغام دیا کہ قومیں اس وقت زندہ ہوتی ہیں جب وہ اپنے محبوب رہنما کو بھی قانون کے دائرے میں رکھیں۔

اب ذرا ہم اپنی سرزمین پر نظر ڈالیں جہاں ایک صاحب نے دوسری جنگ عظیم کی طرح کوئی جنگ تو نہیں جیتی مگر وہ آئین میں اپنے لیے دائمی تحفظ کے تمغے اپنے سینے پر سجانے کے خواہش مند ہیں۔ اقتدار سے چمٹے رہنے والے ہمارے رہنما یہ بھول گئے ہیں کہ جب حکمران عوام سے کٹ جاتے ہیں، تو پھر کوئی آئین اْنہیں تاحیات بچا نہیں سکتا۔ کیونکہ جو لوگ آج ان کے لیے ستائیسویں ترمیم منظور کرواتے ہیں، وہی کل اٹھائیسویں ترمیم لا کر ان تمام مراعات اور قانونی تحفظات کو ختم بھی کر سکتے ہیں۔ زرداری صاحب شاید بھول گئے ہیں کہ قوموں کی تاریخ میں عزت اْنہیں ملتی ہے جو عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں، نہ کہ اْنہیں جو آئین سے بالاتر اور قانون سے محفوظ رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ چرچل جنگ جیت کر بھی قانون کے سامنے سر جھکا گیا اور ہمارے یہاں یہ رہنما مقدمات میں گھر کر بھی قانون سے بھاگنا چاہتے ہیں۔

یہ وہ فرق ہے جس نے ایک قوم کو دنیا کی جمہوریت کا قائد بنا دیا،اور دوسری کو مراعات یافتہ اور اور مفاد پرستوں کا غلام۔ کاش ہمارے حکمران یہ سمجھ پاتے کہ جمہوریت اْن کے نام پر نہیں، اْن کے کردار پر زندہ رہتی ہے۔ اور وہ دن کسی بھی قوم کے لیے سب سے اندوہناک ہوتا ہے جب اس کا قانون کمزور اور حکمران ناقابل ِ گرفت ہو جائے۔ چرچل کا انجام جمہوریت کی سربلندی تھا، اور زرداری کا انعام قانون کی بے بسی۔ یہی فرق ہے ایک نے قوم کو تاریخ کا فخر دیا، دوسرا تاریخ کو شرمندگی کا ایک اور باب دینے کا خواہش مند ہے۔

عبید مغل.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا نہیں

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان