سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا سنگل بینچ کا فیصلہ معطل
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو تحلیل کرنے کا سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کردیا۔
عدالت میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سی ڈی اے کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے سوال کیا کہ جس کیس میں سی ڈی اے کی تحلیل کا آرڈر جاری ہوا اس میں استدعا کیا تھی؟
وکلاء نے اس سوال کے جواب میں عدالت کو بتایا کہ ہماری درخواست میں رائٹ آف وے چارجز ختم کرنے کی استدعا تھی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کے فیصلے کا دفاع کریں گے؟
جس پر وکلاء نے جواب دیا کہ سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کی نہ ہماری استدعا تھی اور نہ اس فیصلے کا دفاع کریں گے۔
عدالت کے ڈویژن بینچ نے سی ڈی اے کی انٹرا کورٹ اپیل پر سنگل بینچ کا آرڈر معطل کردیا۔
واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے سی ڈی اے کو تحلیل کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا۔
سی ڈی اے نے ادارے کو تحلیل کرنے کےحکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے کو تحلیل کرنے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔