صحافیوں سے اپنی ایک ملاقات میں لبنانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالات کی سنگینی کے بارے میں خبردار کرنے کیلیے عرب و غیر ملکی نمائندوں کو بیروت آنے کی ضرورت نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایسے وقت میں جب اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر "لبنان" کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، لبنانی وزیراعظم "نواف سلام" نے ایک بار پھر "حزب الله" کو غیر مسلح کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ حالانکہ حزب الله بارہا اس بات پر زور دے رہی ہے کہ جب تک صیہونی قبضہ باقی ہے وہ غیر مسلح نہیں ہو گی۔ نواف سلام نے ان خیالات کا اظہار صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ لبنان، اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ فرسودہ جنگ میں الجھ گیا ہے اور اس جنگ کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان کو حالات کی سنگینی کے بارے میں خبردار کرنے کے لیے عرب و غیر ملکی نمائندوں کی آمد کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی اجارہ داری کا ٹائم ٹیبل، خود حکومت طے کرے گی۔ اس سلسلے میں پہلا مرحلہ رواں برس کے آخر تک مکمل ہونا چاہئے، جس میں دریائے لیطانیہ کے جنوبی علاقوں سے ہتھیاروں اور تمام عسکری ڈھانچوں کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ نواف سلام نے دریائے لیطانیہ کے شمالی علاقوں کو بھی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقوں میں ہتھیاروں کی سپلائی کو مکمل طور پر روکا جائے، پھر اس کے بعد سارے ملک میں ہتھیاروں کو حکومتی کنٹرول میں لینے کا عمل شروع ہوگا۔

لبنانی وزیراعظم نے ایک بار پھر حزب الله کو ہتھیاروں سے پاک کرنے پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ یہ کام کئی سال پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا تاہم اس میں تاخیر ہوئی۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے 31 دسمبر 2025ء تک لبنان کو آخری ڈیڈ لائن دے دی کہ وہ حزب الله کو غیر مسلح کرے۔ صیہونی اخبار "اسرائیل ہیوم" کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے اپنی دھمکی اور دھونس کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر لبنانی حکومت اس ڈیڈ لائن کی پابندی نہ کر سکی تو اسرائیل کے ساتھ سیز فائر کی کسی بھی خلاف ورزی کی ذمہ داری، بیروت پر عائد ہوگی۔ نیز اس کے نتیجے میں نئی فوجی جھڑپ بھی ہو سکتی ہے۔ دریں اثناء، لبنانی اخبار "الاخبار" نے لکھا کہ گزشتہ روز مصر کے وزیر خارجہ "بد عبد العاطی" کے دورہ بیروت کے تین اہم نکات تھے:
۱۔ دریائے لیطانیہ کے جنوب سے ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ
۲۔ دریائے لیطانیہ کے شمال سے بھی ہتھیاروں کے خاتمے کے عمل کا آغاز اور اس بات کا عہد کہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی سے گریز کیا جائے گا۔ 
۳۔ سعودی عرب اور امریکہ کی نگرانی میں قاہرہ میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں داخل ہونا
یہ تمام اقدامات اور مطالبات ایسے صورت میں سامنے آ رہے ہیں جب صیہونی وزیر جنگ "یسرائیل کاٹس" نے دھمكی دی كہ اگر رواں سال کے اختتام تک حزب‌ الله غیر مسلح نہ ہوئی تو لبنان کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حزب‌ الله نے ہتھیار نہ ڈالے تو صیہونی فوج 1982ء کی طرح لبنان میں داخل ہو جائے گی۔ صیہونی وزیر جنگ كی یہ ڈیڈ لائن چار مرحلوں پر مشتمل ایک منصوبے کا حصہ ہے جو اگست 2025ء میں "ڈونلڈ ٹرمپ" کے خصوصی ایلچی "ٹام باراک" نے لبنانی حکومت کو پیش کیا تھا۔ جس كی رو سے پہلے مرحلے میں، سال آخر تک پارلیمنٹ میں حزب اللہ كو غیر مسلح كرنے كی قرارداد پیش کی جائے گی۔ دوسری جانب اس دوران اسرائیل بھی لبنان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا، جب کہ لبنانی افواج دریائے لیطانیہ کے جنوب میں 15 بارڈر چوکیاں قائم کریں گی۔ دوسرے مرحلے میں جنوبی لبنان کے 5 اسٹریٹجک مقامات سے اسرائیلی فوجوں کا بتدریج انخلاء اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے تعاون سے قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ بعد کے مراحل میں
۱۔ لبنانی فوج کی پورے ملک میں وسیع تعیناتی
۲۔ لبنان-مقبوضہ فلسطین اور لبنان-شام کے درمیان مستقل سرحدوں کا تعین
۳۔ لبنان کے فضائی علاقے پر اسرائیلی پروازوں کا مکمل خاتمہ مرکزی نکات ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دریائے لیطانیہ کے انہوں نے کہا کہ نواف سلام ڈیڈ لائن لبنان کے حزب الله کے خلاف

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی