بنیان مرصوص میں پاک فضائیہ نے دشمن کے دانت کھٹے کیے، دنیا نے ہماری صلاحیت و تیاری دیکھ لی، ایئر چیف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
فوٹو: اسکرین گریب
سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ قوم اور مسلح افواج نے دشمن کو عددی برتری کے باوجود شکست سے دوچار کیا، معرکۂ حق میں کامیابی قومی طاقت اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نتیجہ تھی۔
پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان رسالپور میں گریجویشن پریڈ کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئرفورس نے 6 اور 7 مئی کو بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی پاکستان فضائیہ کی بہترین کارکردگی کا مظہر ہے۔ 10 مئی کو دشمن کے ڈیفنس سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
ایئر چیف مارشل کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا تو دشمن کے سب سے جدید طیارے مار گرائے، ہمارے اقدامات اور آپریشنز مؤثر ہونے کے ساتھ متوازن اور موزوں بھی تھے۔
ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ دنیا نے اس سے قبل کبھی فضائی طاقت کے اتنے جرات مندانہ استعمال کو نہیں دیکھا، حالیہ تصادم نے جدید دور کی فضائی لڑائی کے لیے ایک نصابی مثال قائم کر دی۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور تمام شعبوں میں برتری کو ثابت کیا، ہم نے اپنی آپریشنل ڈکٹرائن کو جنگی تصورات اور حکمت عملی کے مطابق ترتیب دیا۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ معرکہ حق کی فتح تینوں افواج کی ہم آہنگی اور جارحانہ فیصلہ سازی فیلڈ مارشل کی قیادت کا نتیجہ ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ ہمارا مقصد تھا کہ عزت کے ساتھ امن قائم ہو، پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا تو پاک فضائیہ کو دشمن کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر تیار پائے گا۔
ایئر چیف نے کہا کہ ایک ذمے دار جوہری طاقت کے طور پر ہمارے تعلقات عالمی و علاقائی اہم طاقتوں کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ملک کی نظریاتی، جغرافیائی و فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کے لیے پرُعزم ہیں۔
ایئر چیف نے کہا کہ پاک فضائیہ نے جدت طرازی کی ایک نہایت جارحانہ اور تخلیقی حکمت عملی کو اپنایا، پاک فضائیہ نے انڈکشن پروگرام کے ذریعے متعدد جدید لڑاکا طیاروں، ٹیکنالوجیز کو ریکارڈ وقت میں شامل کیا۔
ایئر چیف مارشل نے کہا کہ آپ لوگ فضائی حدود کے رکھوالے ہیں، آپ کو مادرِ وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے مقدس مقصد کا امین بنایا گیا ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ نے مزید کہا کہ سعودی کیڈٹس کو بھی پاسنگ آؤٹ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، سعودی کیڈٹس کی موجودگی دونوں ممالک اور ان کی مسلح افواج میں دوستی اور تعاون کی علامت ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاک فضائیہ کے ہر فرد کو ان کے پیشہ وارانہ طرزِ عمل اور سخت محنت کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، پاک فضائیہ نے تمام افواج کے ساتھ مل کر بہادری اور ہم آہنگی سے وطن کا دفاع کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سربراہ پاک فضائیہ پاک فضائیہ نے نے کہا کہ ایئر چیف کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔