سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر کی گاڑی کو حادثہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
سٹی 42: ہٹیاں بالا میں سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی ۔
راجہ فاروق حیدر جہلم ویلی کے علاقہ کھلانہ،چارسدہ جا رہے تھے۔حادثہ میں فاروق حیدر سمیت تمام سوار محفوظ رہے۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی گاڑی کو مخالف سمت سےآنے والے کییری ڈبہ نے ٹکر ماری۔
حادثہ کے باعث فاروق حیدر کی گاڑی بے قابو ہو گئی لیکن سوار اور گاڑی نقصان سے بچ گئی
پیر کے روز سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اپنے حلقہ انتخاب کے علاقہ چارسدہ کھلانہ جا رہے تھے کہ مخالف سمت سےآنے والے کییری ڈبہ سے ان کی گاڑی ٹکرا گئی،تاھم اس حادثہ میں گاڑی میں سوار سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان سمیت تمام افراد محفوظ رہے ۔
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر فاروق حیدر خان کی گاڑی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔