Al Qamar Online:
2026-06-03@07:50:16 GMT

معروف اداکار عزیر عباسی چل بسے

اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT

پاکستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری کے معروف سینئر اداکار عزیر عباسی طویل علالت کے بعد اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔

عزیر عباسی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے ایک ستون کی حیثیت سے کئی دہائیوں تک اپنے فن کے جوہر دکھاتے رہے اور متعدد یادگار کرداروں کے ذریعے شائقین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا گئے۔

عزیر عباسی کو ڈرامہ سیریل ’انتقام‘ میں رشید بابا کے کردار سے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی، جہاں ان کی شاندار اداکاری اور شائستہ اردو تلفظ نے ناظرین کو بے حد متاثر کیا۔ ان کے فنی سفر کے دیگر قابل ذکر ڈراموں میں ’کراچی ڈویژن‘، ’باشو‘، ’ہیر رانجھا‘ اور ’کھلونا‘ جیسے مشہور سیریلز شامل ہیں۔

اداکار کا تعلق ایک ایسے فنکار خاندان سے تھا جس کی جڑیں پاکستانی انڈسٹری میں گہری ہیں۔ ان کے بڑے بھائی زبیر عباسی معروف پروڈیوسر اور ڈائریکٹر تھے، جبکہ وہ موجودہ دور کے مقبول اداکار شمعون عباسی کے چچا تھے۔

شمعون عباسی نے اپنے چچا کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا ’’میرے پیارے چچا آج ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، براہِ کرم ان کی مغفرت کے لیے سورۃ الفاتحہ پڑھیں۔‘‘ 

عزیر عباسی کے انتقال کی خبر پر ان کے مداح اور ساتھی فنکار غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کیلئے دعائیں کر رہے ہیں۔ 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ