کراچی میں بے قابو منی بس سے کچل کر 2 بھائی جاں بحق،حادثے میں 11 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد میں تیز رفتا ر بے قابو منی بس نے موٹرسائیکل سوار 2بھائیوں کو کچل دیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریورروڈ پر منی بس تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوکر موٹرسائیکل پر چڑھ گئی ،جس کے نتیجے میں 2کم عمر بھائی جاں بحق ہوگئے جبکہ حادثے میں 11 افراد زخمی بھی ہوگئے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ ایکس-8 روٹ کی منی بس نے سعید آباد تھانے کی حدود میں واقع سورتی قبرستان کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دونوں بھائیوں کو ٹکر ماری، حادثے کے بعد منی بس ڈرائیور کے بے قابو ہو کر الٹ گئی تھی،حادثے کی بنیادی وجہ غفلت اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ تھی، حادثے کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو سول ہسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے 18 سالہ علی شاہ اور اس کے 15 سالہ بھائی دانیال کی موت کی تصدیق کی۔جبکہ زخمیوں کی شناخت عاشق خان، سعید احمد، شعیب، عبدالبسیل، محمد کمال، سلیم، زینت منیر، عقیل ملک، سلمان، مقصود نوشاد اور ایک نامعلوم 30 سالہ شخص کے طور پر کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔