انوکھا مینڈک، جو خطرے میں اپنی ہڈیاں پنجے سے باہر نکال لیتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قدرت نے دنیا میں کئی ایسے جاندار پیدا کیے ہیں جو اپنی بقا کے لیے حیرت انگیز طریقے اختیار کرتے ہیں۔
افریقا میں پایا جانے والا ایک مینڈک اپنی نوعیت کا بالکل منفرد ہے۔ اسے عام طور پر وولورین مینڈک کہا جاتا ہے ۔ یہ نام مشہور فلمی کردار ایکس مین کے وولورین سے لیا گیا ہے، جو اپنی ہڈیوں سے نکلنے والے پنجوں سے دشمن پر حملہ کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مینڈک کی صلاحیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
سائنسی طور پر Trichobatrachus robustus کہلانے والا یہ مینڈک وسطی افریقا کے گھنے بارانی جنگلات، خصوصاً کیمرون، کانگو، نائیجیریا اور ایکویٹوریل گینی کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
اس مینڈک کی خاصیت یہ ہے کہ یہ خطرہ محسوس کرتے ہی اپنی پچھلی ٹانگوں کی اندرونی ہڈیوں کو زور لگا کر توڑ دیتا ہے۔ ہڈی کے نوکیلے ٹکڑے جلد کو پھاڑ کر باہر نکل آتے ہیں اور پنجوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو دفاعی ہتھیار کا کام دیتے ہیں۔
یہ حیران کن عمل چند سیکنڈوں میں مکمل ہوتا ہے اور مینڈک ان ہڈیوں سے دشمن پر حملہ کر کے خود کو محفوظ بناتا ہے۔
ماہرین حیوانات کے مطابق یہ فطرت کا ایک نایاب دفاعی طریقہ ہے جو جان بوجھ کر اپنی ہڈیوں کو توڑنے پر مبنی ہے ۔ ایسا عمل جو عام طور پر کسی جاندار کے لیے تباہ کن ہوتا ہے، مگر اس مینڈک کے لیے بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ہڈی کے پنجے مستقل نہیں ہوتے۔ جب خطرہ ختم ہو جاتا ہے تو مینڈک کے جسم کا قدرتی نظام خود بخود ان ہڈیوں کو واپس اندر کھینچ لیتا ہے۔ زخم آہستہ آہستہ بھر جاتے ہیں اور مینڈک دوبارہ اپنی معمول کی حالت میں آ جاتا ہے۔
سائنسی مطالعات کے مطابق اس عمل میں مینڈک کے جسم میں موجود عضلات اور جلد کا لچکدار ڈھانچہ اہم کردار ادا کرتا ہے، جو اسے بغیر کسی مستقل نقصان کے بار بار یہ عمل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
یہ مینڈک اپنی ظاہری ساخت میں بھی عام مینڈکوں سے مختلف ہے۔ نر مینڈک کے جسم پر باریک بال نما ساختیں ہوتی ہیں جو اسے بالوں والا مینڈک بھی بناتی ہیں۔ ان بالوں کا ایک حیاتیاتی مقصد بھی ہے ۔ یہ سانس لینے کے دوران آکسیجن کے تبادلے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر جب نر مینڈک انڈوں کی حفاظت کرتے ہوئے پانی میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق وولورین مینڈک فطرت کے ان چند نایاب جانداروں میں سے ایک ہے جو اپنی ہڈیوں کو دفاعی آلہ بنا سکتا ہے۔ یہ مظاہرہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ قدرت نے جانداروں کو اپنی بقا کے لیے کس قدر حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مینڈک کے جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔