data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

استنبول : پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور استنبول میں شروع ہوگیا ہے، جس میں دونوں فریقین نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مانیٹرنگ اور ویری فکیشن مکینزم کے قواعد و ضوابط پر بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

ترکیہ کی درخواست پر یہ مذاکرات آخری موقع کے طور پر جاری رکھے جا رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور سرحدی امن کے لیے کوئی قابلِ عمل نظام تشکیل دیا جا سکے۔

اس سے قبل دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا تھا، جو پاکستان کے ایک نکاتی مطالبے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا۔ مذاکرات کے دوران افغان وفد بار بار کابل اور قندھار سے ہدایات لیتا رہا، جس سے پیش رفت سست رہی۔

تاہم مذاکرات کے اختتام پر ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اعلامیہ جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ فریقین نے سیز فائر برقرار رکھنے، امن کے لیے مانیٹرنگ و تصدیقی نظام بنانے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزا کے اصول پر اتفاق کیا ہے۔ اسی تسلسل میں 6 نومبر کو اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے بھی اتفاق رائے ہوا۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار