چمن بارڈر پر افغان سائیڈ سے فائرنگ، پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
افغانستان نے ایک بار پھر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چمن بارڈر سے بلااشتعال فائرنگ کی جس پر فورسز نے ذمہ دارانہ جواب دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اس حوالے سے وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ چمن بارڈر پر افغانستان سے کچھ عناصر نے پاکستانی پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی، سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے فائر کا ذمہ دارانہ طریقے سے جواب دیا، فائرنگ افغانستان کی طرف سے شروع ہوئی، پاکستانی فورسز کی ذمہ دارانہ کارروائی سے صورتحال پر قابو پالیا گیا، جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ حکومت آج پاک افغان سرحد چمن پر پیش آئے واقعے پر افغان جانب سے پھیلائے گئے دعووں کو سختی سے مسترد کرتی ہے، فائرنگ کا آغاز افغانستان کی جانب سے کیا گیا، جس پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، ذمہ دارانہ اور پیمانہ شدہ ردعمل دیا۔
وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان سرحدی نظم و ضبط اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پُرعزم ہے، اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے مزید کہا کہ پاکستان جاری مذاکرات کے لیے پُرعزم ہے اور افغان حکام سے باہمی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ استنبول میں آج پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزارت اطلاعات
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔