کراچی میں ای چالان کے خلاف بس اونرز ایسوسی ایشن کی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
کراچی بس اونرز ایسوسی ایشن نے بھی ای چالان کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ بس اونرز ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد نے منصف جان گجر ایڈووکیٹ کے توسط سے آئینی درخواست دائر کر دی۔ دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ای چالان اور بھاری جرمانے غیر قانونی اور ظالمانہ ہیں، نوٹیفکیشن میں غیر ضروری طور پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق پہلے چالان پر 2 لاکھ جبکہ دوسرا چالان 3 لاکھ کا رکھا گیا ہے، چھت پر مسافر بیٹھنے پر 15 ہزار جرمانہ رکھا گیا ہے۔ ہیلمٹ نہ پہننے پر موٹر سائیکل سوار کو 5 ہزار جرمانہ رکھا گیا ہے۔ بس اونرز ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے استدعا کی گئی کہ اس نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔ آئینی درخواست کی سماعت ریگولر بینچ میں پیر 10 نومبر کو ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بس اونرز ایسوسی ایشن گیا ہے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔