گٹر میں گر کر بچے کی ہلاکت: اسسٹنٹ کمشنر گلشن سمیت متعدد افسران معطل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کراچی:
گلشن اقبال میں بچے کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے معاملے میں کے ایم اسی، ڈی ایم سی اور واٹر بورڈ افسران اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق افسران کی معطلی کے نوٹی فکیشن محکمہ بلدیات سندھ نے جاری کردیے ہیں۔
معطل ہوئے افسران میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت، ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال کے اسسٹنٹ انجینئر راشد فیاض، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ایگزیکٹو انجینئر وقار احمد، اسسٹنٹ کمشنر گلشن اقبال عامر علی شاہ، مختیار کار گلشن اقبال سلمان فارسی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ افسران کی معطلی وزیراعلی مراد علی شاہ کی ہدایت پر کی گئی۔
سانحہ نیپا پر ریڈلائن بی آرٹی کا موقف
دریں اثنا سانحہ نیپا پر ریڈلائن بی آرٹی کا موقف سامنے آگیا، بی آر ٹی منیجر نے کہا ہے کہ سانحے کے جائے وقوع کے قریب بی آرٹی کی کوئی سرگرمی نہیں ہورہی، جائے وقوع بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی کاموں سے خاصا فاصلہ رکھتا ہے، نہ وہاں کوئی کھدائی جاری ہے، نہ تعمیراتی رکاوٹیں ہیں۔
بی آر ٹی منیجر نے کہا کہ سڑک کی تعمیر بھی مکمل اور برقرار ہے، سیوریج یا نالے کے نظام کی کوئی انتظامی، یا مرمتی ذمہ داری بی آر ٹی کے دائرہ کار میں شامل نہیں، واقعے کے مقام کے آس پاس یا اس پر کوئی تعمیراتی سرگرمی بھی نہیں ہوئی، بی آر ٹی کے جاری کام متعلقہ اداروں کے این او سی کے بعد شروع ہوئے۔
بی آرٹی منیجر نے مزید کہا ہے کہ کام کے آغاز سے پہلے تمام مجاز اداروں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، پارکنگ ایریا جہاں سانحہ پیش آیا، وہ اسٹور کے استعمال میں ہے، سانحے کا تعلق بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ سے جوڑنا سنگین غلط فہمی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلشن اقبال بی ا رٹی بی آر ٹی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔