سنجے دت نے 5 سالہ قید کے دوران پیش آنے والے تکلیف دہ واقعات سے پردہ اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے 1993 کے ہولناک واقعات اور اپنی قید کے دنوں سے متعلق اہم اور حساس انکشافات کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک انٹرویو میں سنجے دت نے اپنی 5 سالہ قید، مقدمات اور اس دوران پیش آنے والی تکالیف پر کھل کر بات کی۔
سنجے دت کے مطابق بابری مسجد واقعے کے بعد ان کے خاندان کو شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان پر اسلحہ رکھنے کا الزام لگایا گیا تاہم اس کا کوئی ٹھوس ثبوت کبھی پیش نہ ہوا۔
اداکار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آج بھی نہیں سمجھ پایا کہ مجھے کیوں جیل بھیج دیا گیا۔ 25 سال بعد عدالت نے تسلیم کیا کہ میرا بم بلاسٹ کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جیل کا وقت ان کے لیے ایک مشکل مگر سیکھنے کا دور تھا۔میں نے وہاں رہ کر قانون کی کتابیں پڑھیں، دعا کی اور خود کو مضبوط رکھا۔ میں نے مشکلات کو شکست دینے کے بجائے انہیں زندگی کا سبق سمجھا۔
واضح رہے کہ سنجے دت ان دنوں اپنی آنے والی متنازع فلم دھورندھر میں مصروف ہیں، جس میں وہ رنویر سنگھ کے ہمراہ نظر آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔