ستھرا پنجاب کا صفائی کا ماڈل برطانیہ کے شہر برمنگھم تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کو عالمی سطح پر ایک اور بڑی پذیرائی مل گئی ہے۔ کاپ 30 کے بعد فوربز، بلوم برگ اور اب بی بی سی نے بھی ستھرا پنجاب کے جدید ویسٹ مینجمنٹ ماڈل کو سراہا ہے۔
بی بی سی کے مطابق ستھرا پنجاب کا صفائی کا ماڈل برطانیہ کے شہر برمنگھم تک پہنچ گیا ہے، جہاں تاریخ میں پہلی بار کسی برطانوی شہر کے والنٹیئرز گروپ نے صفائی کے لیے پنجاب سے رہنمائی حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا ستھرا پنجاب ماڈل برطانیہ میں بھی ایک ماڈل بن چکا ہے۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ برمنگھم میں اُبلتے کوڑے دانوں اور بار بار ہونے والی ہڑتالوں کے مسائل کے حل میں ستھرا پنجاب ماڈل مؤثر ثابت ہوا۔ پنجاب کے ماہرین اور برمنگھم کے رضاکاروں کے درمیان ڈیجیٹل پارٹنرشپ نے کئی مفروضے بدل دیے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کا ویسٹ مینجمنٹ پلان ’ستھرا پنجاب‘ دنیا بھر کے اداروں کے لیے قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔ برطانوی والنٹیئرز کا کہنا ہے کہ پنجاب سے سیکھ کر احساس ہوا کہ ہم مغرب میں رہ کر بھی ذمہ داری سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
بی بی سی کے مطابق برطانیہ کے لوکل والنٹیئرز نے ستھرا پنجاب سے آن لائن مشاورت کی۔ برطانیہ کے والنٹیئرز گروپ اور ستھرا پنجاب کے درمیان پہلا رابطہ ماحولیاتی کانفرنس COP-30 کے دوران برازیل میں ہوا، جہاں پاکستان پویلین پر ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کی تفصیلات پیش کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او بابر صاحب دین نے برمنگھم کے رضاکاروں کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کیا، جس میں پنجاب کے ماڈل اور مقامی مسائل کے حل سے متعلق برطانیہ کو رہنمائی فراہم کی گئی۔
بی بی سی کے مطابق پنجاب کے جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم ’ستھرا پنجاب‘ کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ دوسری جانب عالمی جریدے بلوم برگ نے ستھرا پنجاب کے ویسٹ ٹو ویلیو پراجیکٹ کو ایک اہم منصوبہ قرار دیا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق ستھرا پنجاب منصوبہ ماحول دوست سرگرمیوں کے ذریعے پنجاب کی معیشت میں سالانہ 300 ارب روپے کا اضافہ کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویسٹ مینجمنٹ ستھرا پنجاب برطانیہ کے پنجاب کے کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔