کراچی کی اہم شاہراہ کو ٹریفک کیلیے 30 دسمبر تک بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
شہر قائد کی اہم شاہراہ یونیورسٹی روڈ کو ترقیاتی کام کے باعث حسن اسکوائر سے نیپا چورنگی تک بند کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق نیپا چورنگی سے وفاقی اردو یونیورسٹی (نیپا چورنگی پُل) تک یونیورسٹی روڈ کے دونوں ٹریک بند آج 10 نومبر سے 30 دسمبر یعنی 51 روز تک رہیں گے۔
ٹریک بند رکھنے کی وجہ بی آر ٹی لائن ریڈ لائن منصوبے کے نیچے کے فور سے آنے والی پانی کی لائن بچھانا ہے۔
واٹراینڈ سیوریج کارپوریشن کے مطابق 7 کلومیٹر طویل پانی کی لائن کا نیٹ ورک بنایا جارہا ہے جسے مستقبل میں کے فور سے جوڑا جائے گا اور پھر اسی سسٹم سے پانی کی ترسیل ہوگی۔
ترجمان کے مطابق ’پہلے مرحلے میں نیپا سے وفاقی اردو یونیورسٹی جبکہ دوسرے مرحلے میں حسن اسکوائر سے نیپا تک کام ہوگا‘۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کو 30 دسمبر تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
یونیورسٹی روڈ بند ہونے کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کی صورت حال مزید خراب ہوگی جبکہ اس کا دباؤ، شاہراہ لیاقت، شاہراہ فیصل، گلستان جوہر اور اطراف کی سڑکوں پر پڑے گا۔
اس حوالے سے ٹریفک پولیس نے متبادل ٹریفک پلان بھی مرتب کیا ہے جس کے تحت سبزی منڈی سے آنے والے ٹریفک کو غریب آباد کی طرف موڑا جائے گا جبکہ نیپا سے حسن اسکوائر آنے والی گاڑیوں کو راشد منہاس روڈ الہ دین کی طرف موڑا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک