آئی ایم ایف کا اہم اجلاس 8 دسمبر کو ہوگا، پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر قرض کی منظوری متوقع
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری کے سلسلے میں 8 دسمبر کو اپنے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس اہم اجلاس میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط ای ایف ایف (ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی) پروگرام کے تحت جب کہ 20 کروڑ ڈالر ماحولیاتی فنانسنگ کی مد میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت اس اسٹاف لیول معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو طے پایا تھا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کیلنڈر کے مطابق 8 دسمبر کو پاکستان اور صومالیہ کے لیے ایس ایل ایز (Staff-Level Agreements) کی منظوری کے لیے دو علیحدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
بورڈ اجلاس سے قبل پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ایک تکنیکی مشن کی تیار کردہ ’گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک‘ رپورٹ جاری کرے گا۔ یہ رپورٹ پروگرام کے کلیدی ساختی تقاضوں میں شامل ہے، تاہم اس کی اشاعت بار بار مؤخر ہوتی رہی ہے۔
ابتدائی طور پر اسے جولائی کے آخر تک شائع کیا جانا تھا، بعدازاں اگست اور پھر اکتوبر کے آخر تک ڈیڈ لائنز مقرر کی گئیں، لیکن تکنیکی اختلافات اور حقائق پر مبنی اعتراضات کے باعث عمل مکمل نہ ہوسکا۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف مشن نے رواں سال کے اوائل میں پاکستان کا تفصیلی دورہ کیا تھا۔ اس دوران مشن نے سپریم کورٹ، وزارت قانون و انصاف، آڈیٹر جنرل، ارکان پارلیمنٹ، قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد تیار کی گئی رپورٹ میں مالیاتی نظم و نسق، شفافیت اور ٹیکس نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ نظام میں اعلیٰ سرکاری افسران کی بڑی تعداد اپنے اور اپنے اہلخانہ کے اثاثے ظاہر نہیں کرتی۔ احتساب کا موجودہ فریم ورک بھی غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے کیوں کہ متعدد ادارے ریگولیٹری جانچ سے مستثنا ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسی کمزور گورننس اور عدم شفافیت کے باعث بدعنوانی کے واقعات عام ہیں اور پاکستان بین الاقوامی درجہ بندیوں میں کرپشن کے لحاظ سے بلند مقام پر آچکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر 8 دسمبر کے اجلاس میں قسط کی منظوری دے دی جاتی ہے تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئے گی، جو ملکی معیشت کے استحکام اور مالیاتی دباؤ میں کمی کا باعث بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آئی ایم ایف کی منظوری کے مطابق
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز