ضلع خیبر میں خواتین کے لیے انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ لنڈی کوتل کی ڈسٹرکٹ ریزیولوشن کونسل (ڈی آر سی) کی خواتین ممبران نے پہلی بار ایک اہم اور پیچیدہ مقدمہ نہ صرف سنا بلکہ اسے کامیابی کے ساتھ حل بھی کیا۔
ایس ایچ او لنڈی کوتل عشرت علی کے مطابق یہ کیس ایک بیوہ خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں اس نے اپنی شوہر کی وفات کے بعد دیت کی رقم کی واپسی کی درخواست کی تھی۔ درخواست گزار کے شوہر 2024 میں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے، اور مقتول کے ورثاء نے شرعی طور پر 35 لاکھ روپے دیت کے طور پر وصول کیے تھے، تاہم مقتول کے بھائی (دیور) نے یہ رقم بیوہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
کئی ماہ کی کوششوں کے بعد بیوہ خاتون نے ڈی آر سی کی خواتین ممبران سے مدد طلب کی۔ ڈی آر سی کی خواتین ممبران نے لنڈی کوتل پولیس کے ساتھ مل کر کیس کی تفصیلات کا بغور جائزہ لیا، فریقین کو طلب کیا اور متعدد اجلاسوں کے بعد ایک قابل قبول حل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔
ایس ایچ او عشرت علی کے مطابق خواتین ممبران نے اس مقدمے کی پیروی انتہائی محنت، سنجیدگی اور جذبۂ خدمت کے ساتھ کی، اور بالآخر ڈی آر سی کے فیصلے کے مطابق 35 لاکھ روپے کی پوری رقم بیوہ کو واپس کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف خاتون درخواست گزار کے لیے بڑا ریلیف ہے بلکہ ضلع خیبر میں خواتین کے لیے انصاف کی فراہمی کا ایک مؤثر نمونہ بھی ثابت ہوگی۔
یہ ضلع خیبر کی تاریخ میں پہلا مقدمہ ہے جسے ڈی آر سی کی خواتین ممبران نے مکمل طور پر حل کیا، جو اس فورم کی بڑھتی ہوئی افادیت اور خواتین کی فعال شمولیت کا ثبوت ہے۔ ایس ایچ او نے مزید کہا کہ خواتین اپنے مسائل کے حل اور انصاف تک رسائی کے لیے بلاجھجھک پولیس کی خواتین ڈی آر سی سے رجوع کر سکتی ہیں، جہاں انہیں مکمل عزت، رازداری اور قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
مقامی عوام اور سماجی شخصیات نے ڈی آر سی کی خواتین ممبران اور لنڈی کوتل پولیس کی اس کامیابی کو سراہا اور اسے ایک مثبت اور قابل تقلید مثال قرار دیا، جس سے نہ صرف خواتین کا اعتماد بڑھے گا بلکہ معاشرے میں انصاف کے فروغ کا عمل بھی مضبوط ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈی ا ر سی کی خواتین ممبران خواتین ممبران نے لنڈی کوتل کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار