ضلع خیبر میں خواتین کو انصاف فراہم کرنے میں تاریخی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ضلع خیبر میں خواتین کے لیے انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ لنڈی کوتل کی ڈسٹرکٹ ریزیولوشن کونسل (ڈی آر سی) کی خواتین ممبران نے پہلی بار ایک اہم اور پیچیدہ مقدمہ نہ صرف سنا بلکہ اسے کامیابی کے ساتھ حل بھی کیا۔
ایس ایچ او لنڈی کوتل عشرت علی کے مطابق یہ کیس ایک بیوہ خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں اس نے اپنی شوہر کی وفات کے بعد دیت کی رقم کی واپسی کی درخواست کی تھی۔ درخواست گزار کے شوہر 2024 میں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے، اور مقتول کے ورثاء نے شرعی طور پر 35 لاکھ روپے دیت کے طور پر وصول کیے تھے، تاہم مقتول کے بھائی (دیور) نے یہ رقم بیوہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
کئی ماہ کی کوششوں کے بعد بیوہ خاتون نے ڈی آر سی کی خواتین ممبران سے مدد طلب کی۔ ڈی آر سی کی خواتین ممبران نے لنڈی کوتل پولیس کے ساتھ مل کر کیس کی تفصیلات کا بغور جائزہ لیا، فریقین کو طلب کیا اور متعدد اجلاسوں کے بعد ایک قابل قبول حل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔
ایس ایچ او عشرت علی کے مطابق خواتین ممبران نے اس مقدمے کی پیروی انتہائی محنت، سنجیدگی اور جذبۂ خدمت کے ساتھ کی، اور بالآخر ڈی آر سی کے فیصلے کے مطابق 35 لاکھ روپے کی پوری رقم بیوہ کو واپس کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف خاتون درخواست گزار کے لیے بڑا ریلیف ہے بلکہ ضلع خیبر میں خواتین کے لیے انصاف کی فراہمی کا ایک مؤثر نمونہ بھی ثابت ہوگی۔
یہ ضلع خیبر کی تاریخ میں پہلا مقدمہ ہے جسے ڈی آر سی کی خواتین ممبران نے مکمل طور پر حل کیا، جو اس فورم کی بڑھتی ہوئی افادیت اور خواتین کی فعال شمولیت کا ثبوت ہے۔ ایس ایچ او نے مزید کہا کہ خواتین اپنے مسائل کے حل اور انصاف تک رسائی کے لیے بلاجھجھک پولیس کی خواتین ڈی آر سی سے رجوع کر سکتی ہیں، جہاں انہیں مکمل عزت، رازداری اور قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
مقامی عوام اور سماجی شخصیات نے ڈی آر سی کی خواتین ممبران اور لنڈی کوتل پولیس کی اس کامیابی کو سراہا اور اسے ایک مثبت اور قابل تقلید مثال قرار دیا، جس سے نہ صرف خواتین کا اعتماد بڑھے گا بلکہ معاشرے میں انصاف کے فروغ کا عمل بھی مضبوط ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی ا ر سی کی خواتین ممبران خواتین ممبران نے لنڈی کوتل کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔