پی ٹی آئی کا بڑا سیاسی فیصلہ، مفاہمت کیلئے تیار، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بڑا سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی مفاہمت کے لیے ایک قدم آگے بڑھانے پر تیار ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی سیاسی مفاہمت کے لیے ایک قدم آگے بڑھانے پر تیار ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پی تی آئی کی جانب سے رابطہ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہوگا اور پیپلز پارٹی کو دو روزہ قومی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی کانفرنس میں دعوت نہیں دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی
اس ضمن میں ذرائع نے مزید بتایا کہ قومی کانفرنس میں سیاسی ڈائیلاگ کے لیے راستہ نکالنے پر غور ہو گا جبکہ اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چئیرمین عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھی گئی ہے۔
اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ یہ کاروباری دنیا نہیں ہے کہ دو میں سے ایک مائنس کرو تو ایک رہ جائے گا، اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، خان صاحب کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، “Enough is enough”۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔