پولینڈ کا ڈرون ٹیکنالوجی کے حصول کے بدلے یوکرین کو سوویت ساختہ مِگ 29 طیارے دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وارسا: پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے باقی ماندہ سوویت دور کے مِگ-29 لڑاکا طیارے یوکرین کے حوالے کرے گا، اور بدلے میں یوکرین سے جدید ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کرے گا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق پولینڈ نے اپنے پرانے مِگ طیاروں کی جگہ بڑی حد تک امریکی ایف-16 اور جنوبی کوریا کے ایف اے-50 لڑاکا طیارے شامل کر لیے ہیں، جبکہ امریکا سے آرڈر کیے گئے 32 ایف-35 طیاروں کی ترسیل کا بھی انتظار ہے۔
پولینڈ کے وزیر دفاع ولادیسلاو کوسینیاک-کامیژ نے سرکاری ریڈیو سے گفتگو میں بتایا کہ مِگ-29 طیارے اپنی سروس لائف کے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں، اسی لیے انہیں پولش فضائیہ سے ہٹایا جا رہا ہے، اور ان کی یوکرین کو منتقلی پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مجوزہ معاہدے میں خاص طور پر ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کے تبادلے کا امکان موجود ہے، جو یوکرین سے پولینڈ منتقل کی جا سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2022 میں روسی حملے کے بعد پولینڈ پہلے ہی اپنے متعدد مِگ-29 طیارے یوکرین کو دے چکا ہے، جبکہ اس وقت اس کے پاس ایسے 14 طیارے باقی ہیں۔
وزیر دفاع کے مطابق مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور پولینڈ ان کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کا خواہاں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر