اس وقت ملک میں گلا سڑا نظام چل رہا ہے جو نوجوان کو مایوس کر رہا ہے،حافظ نعیم الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 13 December, 2025 سب نیوز

وزیرآباد(آئی پی ایس )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں گلا سڑا نظام نوجوانوں کو مایوس کررہا ہے۔پنجاب کے شہر وزیرآباد میں الخدمت فاونڈیشن کے زیراہتمام بلاسود قرضہ جات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں44فیصدلوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی طرح کئی سکیمیں ہیں لیکن غربت ختم نہیں ہورہی، نوجوانوں کوآئی ٹی کے کورسزکرادیے جائیں تو وہ بہت سے کام کر سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے تقریب میں 112 افراد میں 1 کروڑ 12 لاکھ روپے کے بلاسود قرضوں کے چیک تقسیم کیے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہرشعبے میں طبقاتی نظام بنتا جا رہا ہے، بے نظیر انکم جیسے پروگرام جیسے پروگرام صرف سیاست کے لئے استعمال ہو رہے ہیں، ہمارے پڑوسی ملک کے مقابلے میں ہمارے ملک میں یوریا کھاد کی قیمتیں کئی گناہ زیادہ ہے،حکومت نوجوانوں کے روز گار کے لئے کوئی مواقع پیدا نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا نوجوان پڑھ لکھنے کے باوجود بے روز گار ہے، اس وقت ملک میں گلا سڑا نظام چل رہا ہے جو نوجوان کو مایوس کر رہا ہے، فارم 47 کے سسٹم میں چند لوگ طاقتور ہوتے جارہے ہیں۔امیرجماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وزیر آباد کے لوگو اِس طاقت کے نظام کے خلاف ڈٹ جا، بنو قابل پروگرام کے تحت ہم نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دینے کا بندوبست کر رہے ہیں، ایک لاکھ سے زائد نوجوان بنو قابل پروگرام سے مستفید ہوچکے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اِس ملک کے حکمران بڑے بڑے قرض لیتے ہیں اور معاف کروالیتے ہیں، ہمارے پروگرام کے تحت جو لوگ قرضے لیتے ہیں وہ 99 فیصد ہمیں واپس کر دیتے ہیں، ہمیں کرپٹ مافیا کے خلاف متحد ہو کر کوشش کرنا پڑے گی۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہم نوجوان کو چھوٹے کورسسز کروائیں گے تاکہ وہ اپنا روزگار کمائیں،ہم خواتین کے لئے دستکاری کے پروگرام لا رہے ہیں تاکہ خواتین گھر بیٹھے پیسے کما سکے، ہم خواتین کو مارکیٹنگ ٹولز سکھائیں گے تاکہ وہ اپنے مصنوعات فروخت کرسکے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کے لئے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام لارہے تا کہ وہ سپورٹس میں بھی آگے بڑھ سکے، یہ پاکستان طاقتوروں کا پاکستان نہیں بلکہ یہ پاکستان ہمارا پاکستان ہے، بلدیاتی نظام کے حوالے سے جو پنجاب میں زیادتی کی گئی ہے ہم اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ٹرانسپورٹ کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ٹرانسپورٹ کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ پینتیس ویں نیشنل گیمز کا رنگا رنگ اختتام، فیلڈ مارشل عاصم منیرنے انعامات تقسیم کیے وزیراعظم شہباز شریف سے برطانوی وزیربرائے بین الاقوامی ترقی و افریقہ کی ملاقات ڈگری تنازع کیس میں بڑی پیش رفت، جسٹس طارق جہانگیری کا خود ہائیکورٹ کیسامنے پیش ہونے کا امکان جنگ کے سائے دروازے تک پہنچ گئے، امریکا پر انحصار ختم کرنا ہوگا، برطانوی وزیر دفاع وفاقی پولیس کے اہلکاروں کا گینگ بنا کراغوا برائے تاوان کی واردات کرنے کا انکشاف TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کو مایوس کر نوجوان کو نے کہا کہ رہے ہیں کے لئے رہا ہے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ