ملک کے چاروں دارالحکومتوں کی فضا میں آلودگی بڑھ گئی، لاہور سرِ فہرست
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی ماحولیاتی مانیٹرنگ ویب سائٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور ایک بار پھر 253 پارٹیکیولیٹ میٹر کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، جہاں فضائی معیار خطرناک حد تک خراب ہوگیا ہے۔
اس کے علاوہ کوئٹہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 248، پشاور میں 243 اور کراچی میں 236 ریکارڈ کیا گیا، جو صحت کے لیے شدید نقصان دہ سطحوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودگی سانس کی بیماریوں، آنکھوں کی جلن اور مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں دھند کی شدت برقرار ہے، جس کے باعث حدِ نگاہ متاثر ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے موٹروے حکام نے ایم ون کو پشاور سے برہان تک اور ایم فائیو کو ظاہر پیر سے شیر شاہ تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔