نادرا کی لسانی بنیادوں پر امتیازی نوٹس سے متعلق وضاحت، گمراہ کن پروپیگنڈا مسترد
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے لسانی بنیادوں پر مبینہ امتیازی نوٹس سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
نادرا کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ مخصوص سیاسی عناصر کی جانب سے ایک بار پھر جھوٹا اور من گھڑت بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعلقہ ٹویٹ کو نادرا جعلی خبر کے طور پر مکمل طور پر رد کرتا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں نادرا کے کسی بھی دفتر میں اس نوعیت کا کوئی نوٹس آویزاں نہیں کیا گیا۔ نادرا اپنے قومی مینڈیٹ کے تحت تمام شہریوں کو بلا امتیاز خدمات فراہم کر رہا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق کی کوئی گنجائش نہیں۔
نادرا کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اس خبر کے ذریعے جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کیا گیا تاکہ ملک میں بے چینی اور انتشار پیدا کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ بعض عناصر جھوٹ اور من گھڑت اطلاعات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نادرا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور مستند معلومات کے لیے سرکاری ذرائع پر ہی انحصار کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ