پولیو کے خاتمے کیلیے اہم پائلٹ پروجیکٹ تیار کرلیا،نادر شہزاد
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت) ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سکھر اور ضلع انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے پولیو کے خاتمے کے لیے ایک اہم پائلٹ پروجیکٹ تیار کر لیا گیا، سکھر آرٹس کونسل میں ایک باقاعدہ آگاہی و تعارفی پروگرام منعقد کیا گیا اس پروگرام کا مقصد پولیو مہم کو مزید مؤثر،منظم اور نتیجہ خیز بنانا تھا تاکہ ضلع سکھر کو پولیو فری بنانے کے ہدف کو یقینی بنایا جا سکے۔تقریب میں ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد، ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین سید کمیل حیدر شاہ، اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بشریٰ منصور، ڈی ایچ او سکھر ڈاکٹر علی گل شاھ۔ ڈاکٹر تنویر عباسی سمیت دیگر اعلیٰ ضلعی افسران نے شرکت کی۔اس کے علاوہ یو سی چیئرمینز، کونسلرز، محکمہ صحت، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ تقریب کے دوران پائلٹ پروجیکٹ کے خدوخال، اہداف اور عملی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ تمام شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیو کے خلاف اس مشترکہ پائلٹ پروجیکٹ کو کامیاب بنایا جائے گا اور ضلع سکھر کو پولیو فری بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان نے کہا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ ضلع سکھر کے لیے ایک منفرد اور مثالی اقدام ہے جو ضلعی انتظامیہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے باہمی تعاون سے تیار کیا گیا ہیانہوں نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں صرف سرکاری ادارے نہیں بلکہ یونین کونسل سطح پر عوامی نمائندوں کا کردار انتہائی اہم ہیاور یہی وجہ ہے کہ اس پائلٹ پروجیکٹ میں یو سی ناظمین، چیئرمینز اور کونسلرز کو براہِ راست شامل کیا گیا ہیڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے تحت مؤثر مانیٹرنگ، فیلڈ میں بروقت رسائی کمیونٹی شمولیت اور ذمہ داری کے تعین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، تاکہ کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی کی گنجائش نہ رہیانہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ماڈل مستقبل میں دیگر اضلاع کے لیے بھی قابلِ تقلید ثابت ہوگا ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین سید کمیل حیدر شاہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بلدیاتی نمائندے پولیو مہم میں ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ ہیں اور ہر یونین کونسل میں پولیو ٹیموں کو بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پائلٹ پروجیکٹ پولیو کے کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔