بھارت نے چین کے تجارتی ویزوں کی رکاوٹیں ختم کردیں،تعلقات کی بہتری میں بڑی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے چینی پروفیشنلز کو بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنے کے لیے سرکاری رکاوٹیں ختم کر دیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات بہتر کرنے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی محصولات کے دباو¿ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو احتیاط سے بحال کرنا شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزوں کی منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ نکال دیا ہے اور اب ویزے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔دونوں طرف کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔