آزاد کشمیر :وزیراعظم کے انتخابی عمل سے لاتعلقی کا اعلان ،یہ سیاسی تبدیلی نہیں، ایک کھیل کھیلا جا رہا ہے،پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد کشمیر میں اپوزیشن اتحاد کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک اور نئے وزیراعظم کے انتخابی عمل سے خود کو لاتعلق قرار دے دیا ہے۔
اسلام آباد کے خیبر پختون خوا ہاؤس میں ہونے والے پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں آزاد کشمیر کی قیادت سمیت مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی نہ تو نئے وزیراعظم کے انتخابی عمل کا حصہ بنے گی اور نہ ہی عدم اعتماد کی تحریک میں شامل ہوگی۔ البتہ پارٹی ارکان ایوان میں عوامی نمائندگی کا کردار جاری رکھیں گے اور نئی حکومت کو سخت اپوزیشن دینے کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اس وقت ایک سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کر کے مصنوعی نظام قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح ہمارے 29 ارکان کو توڑا گیا اور انہیں آزاد قرار دے دیا گیا۔ اب پھر وہی چہرے، وہی طاقتور قوتیں پسِ پردہ سرگرم ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت کشمیر میں رجسٹر نہیں کیا گیا، تاکہ اسے سیاسی عمل سے باہر رکھا جا سکے۔ “کشمیر میں عوام ایک جانب اور ریاست دوسری جانب کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے درمیان سچ اور جھوٹ کی ایک خلیج پیدا کر دی گئی ہے۔ یہ حق اور فریب کی جنگ ہے، جس میں ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
سلمان اکرم راجہ کا مزید کہنا تھا کہ “یہ تبدیلی نہیں بلکہ اقتدار کا کھیل ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتیں محض اقتدار کے لیے سرگرم ہیں، عوام کے لیے نہیں۔ عمران خان آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں بستے ہیں اور پی ٹی آئی کے کارکن ان کے نظریے کے سپاہی ہیں۔ ایک چہرہ ہٹا کر دوسرا لگا دینا کوئی سیاسی کامیابی نہیں۔”
اجلاس میں شریک رہنما خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ “ہمارے اختلاف حکومتِ پاکستان کی پالیسیوں سے ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا دل ہمیشہ ریاستِ پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ “یہ اسمبلی اپنی وقعت کھو چکی ہے، اس لیے فوری طور پر غیر جانبدار الیکشن کمیشن تشکیل دے کر عام انتخابات کروائے جائیں۔ موجودہ حکومت اپنی مرضی کے سکندر سلطان راجہ جیسے افراد لگا کر انتخابات میں دھاندلی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔”
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی نے بھی اس موقع پر کہا کہ “آزاد کشمیر میں ایک ہائبرڈ نظام نافذ کیا گیا ہے، جسے عوام نے احتجاج کے ذریعے مسترد کر دیا۔ اب ایک بار پھر اسی پرانے نظام کو واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اس سارے عمل سے لاتعلق رہے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر آزاد اور شفاف الیکشن کمیشن قائم کیا جائے تاکہ عوام کو ان کا اصل حق واپس مل سکے۔”
اجلاس میں یہ عزم دہرایا گیا کہ پی ٹی آئی کشمیری عوام کے سیاسی اور جمہوری حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی غیر آئینی یا غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم کے پی ٹی ا ئی اجلاس میں عوام کے کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔