پاکستان کے خیرخواہ مفاہمت کی سیاست اپنائیں، محمود مولوی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
اپنے خصوصی بیان سابق رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ جو لوگ انتشار اور نفرت کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ وہ قوم کے سامنے آئیں تاکہ عوام خود فیصلہ کریں کہ کون استحکام اور ترقی کی راہ پر ہے اور کون ذاتی مفادات کے لیے ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سینئر سیاستدان و سابق رکن قومی اسمبلی محمود مولوی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں مفاہمت، مکالمے اور تعمیری سیاست کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری تصادم اور محاذ آرائی کی سیاست نے نہ صرف قومی مفادات کو نقصان پہنچایا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متزلزل کر دیا ہے۔ محمود مولوی نے کہا کہ ہمارا مقصد واضح ہے ہم ایسی سیاست کے خواہاں ہیں جو قوم کو جوڑے، اداروں کو مضبوط کرے اور ملک کے لیے امید کا پیغام بنے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ انتشار اور نفرت کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ وہ قوم کے سامنے آئیں تاکہ عوام خود فیصلہ کریں کہ کون استحکام اور ترقی کی راہ پر ہے اور کون ذاتی مفادات کے لیے ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تصادم کی راہ اختیار کرنے والے دراصل قوم کو تقسیم اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کے خواہاں ہیں، ان کے لیے ہمارا پیغام بالکل دوٹوک ہے کہ اگر وہ واقعی پاکستان کے خیرخواہ ہیں، تو مفاہمت کی سیاست اپنائیں، مکالمے میں شامل ہوں اور ایک پُرامن و مستحکم سیاسی فضا کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی سیاست نے کہا کے لیے
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔