ایک سینیئر پروفیسر کے مطابق کلاس ورک معمول کے مطابق جاری ہے، مگر میڈیا خاص کر سوشل میڈیا پر کشمیری ڈاکٹروں کے بارے میں گردی کررہی منفی خبروں سے ہم سب پریشان ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لال قلعہ کار دھماکے کی تفتیش جوں جو تیز ہو رہی ہے، وادی کشمیر کے ڈاکٹروں میں خوف اور بے چینی بھی بڑھ رہی ہے۔ سرینگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اور ایس ایم ایچ ایس (SMHS) اسپتال میں مریضوں اور تیمارداروں کی بھیڑ لگی ہے، مگر ڈاکٹروں کے چہروں پر تشویش کے آثار صاف نظر آ رہے ہیں۔ کئی ڈاکٹروں کو تحقیقاتی ایجنسیز نے پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا ہے۔ سفید کوٹ پہنے ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرنے میں مشغول ہیں، پروفیسر اور طلبہ اپنی کلاسوں میں جا رہے ہیں، مگر ماحول میں ایک انجانا خوف صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں دہلی دھماکے کے سلسلے میں چھاپے مار رہی ہیں اور کئی جگہوں پر تفتیش جاری ہے۔

10 نومبر کو جموں و کشمیر پولیس نے سات افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں دو کشمیری ڈاکٹرس کولگام کے عادل احمد راتھر اور پلوامہ کے ڈاکٹر مزمل شکیل گنائی بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ ایک بین ریاستی اور بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جس کا تعلق جیش محمد اور انصار غزوۃ الہند جیسی عسکری تنظیموں سے تھا۔ اسی شام دہلی کے لال قلعہ کے قریب کار دھماکہ ہوا میں 13 شہری ہلاک ہوئے۔ دھماکے میں تباہ ہوئی کار مبینہ طور پر پلوامہ کے ڈاکٹر عمر نبی چلا رہے تھے۔ ان واقعات کے بعد پولیس نے وادی کشمیر میں بڑی کارروائی شروع کی اور سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا۔ جی ایم سی، سرینگر کے کئی ڈاکٹروں کو بھی پوچھ کچھ کے لیے طلب کی گیا اور اس معاملے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

نومبر 2023ء میں نوکری سے برطرف کئے گئے میڈیسن کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نثار الحسن کو بھی این آئی اے نے فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی سے حراست میں لیا، جیسا کہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر ثریا نے بتایا۔ ڈاکٹر عمر نبی اور ڈاکٹر عادل احمد، جی ایم سی کے سابق طلبہ ہیں جبکہ ڈاکٹر مزمل نے جموں کے اے ایس کامس کالج سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر عمر نبی نے الفلاح یونیورسٹی جانے سے قبل ایس ایم ایچ ایس اور جی ایم سی اننت ناگ میں سینیئر ریزیڈنٹ کے طور پر کام کیا تھا اور کئی پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی رہنمائی بھی کی تھی۔

دہلی دھماکے کے بعد کئی ڈاکٹروں کی حراست اور ان سے پوچھ گچھ نے طبی شعبہ سے وابستہ پیشہ وار افراد میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ہسپتال کے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹروں نے تسلیم کیا کہ خوف تو ہے، مگر کام کاج معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ ایک سینیئر پروفیسر کے مطابق کلاس ورک معمول کے مطابق جاری ہے، مگر میڈیا خاص کر سوشل میڈیا پر کشمیری ڈاکٹروں کے بارے میں گردی کر رہی منفی خبروں سے ہم سب پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ افسوسناک ہے مگر پوری میڈیکل برادری کو اس کے ساتھ جوڑنا ناانصافی ہے۔ کالج کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق کئی ایسے ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ کی گئی جو ماضی میں ان گرفتار شدہ ڈاکٹروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں یا کسی پیشہ ورانہ تعلق میں رہے ہیں۔

ایک اور سینیئر کنسلٹنٹ نے کہا کہ جی ایم سی سرینگر سے سینکڑوں ڈاکٹر فارغ ہو کر ملک اور بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں، اگر چند افراد کی تفتیش ہو رہی ہے تو اس بنیاد پر پوری برادری پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی گزشتہ روز ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا تھا اور آج جموں میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ پوری کشمیری قوم کو دہشتگرد قرار دینا صحیح نہیں۔ دریں اثناء جب تفتیشی ایجنسیاں دہلی دھماکے اور مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں مزید تفصیلات تلاش کر رہی ہیں، جی ایم سی کے وارڈز، او پی ڈی اور راہداریوں میں مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کا رش بدستور جاری ہے اور طبی و نیم طبی عملہ بھی اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہلی دھماکے ڈاکٹروں کے جی ایم سی کے مطابق رہے ہیں جاری ہے رہی ہے

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف