یوکرین میں ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکا، 4 افراد ہلاک، 12 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف: یوکرین کے شمالی شہر اووروچ کے ریلوے اسٹیشن پر ایک 23 سالہ نوجوان نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔
یوکرینی بارڈر گارڈ سروس کے مطابق نوجوان کے جسم سے بارودی مواد بندھا ہوا تھا جو تلاشی کے دوران پھٹ گیا۔ دھماکے میں حملہ آور خود بھی شدید زخمی ہوا اور اسپتال لے جاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں، جب کہ سات زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور کا تعلق خارکیف سے تھا اور اسے حال ہی میں بیلاروس کی سرحد عبور کرنے کی کوشش پر گرفتار کیا گیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ فوجی بھرتی سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہونا چاہتا تھا۔
یوکرینی حکام نے واضح کیا ہے کہ تاحال اس دھماکے کا روس-یوکرین جنگ سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا۔ حملے کے محرکات اور پسِ پردہ عوامل جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد سے یوکرین میں مارشل لا نافذ ہے اور 22 سے 60 سال کے مردوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ انہیں لازمی طور پر فوجی خدمات کے لیے دستیاب رہنا ہوتا ہے۔ اس قانون کے باعث ہزاروں نوجوان سرحدیں پار کر کے پڑوسی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر چکے ہیں۔
غیر سرکاری اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک چار لاکھ سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ حکومت سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کرتی مگر ماہرین کے نزدیک یہ نقصان یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
دھماکے کے بعد اووروچ شہر میں سخت سیکورٹی نافذ کر دی گئی ہے اور ریلوے اسٹیشن کو بند کر کے تمام مسافروں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ واقعے نے یوکرین میں پہلے سے موجود خوف و بے یقینی کے ماحول کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔