data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) سندھ انفارمیشن کمیشن کے زیرِ اہتمام ’’رائٹ ٹو انفارمیشن اینڈ ٹرانسپیرنسی ایکٹ‘‘ کے حوالے سے ایک آگاہی سیمینار آج پریس کلب حیدرآباد میں منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کے انعقاد میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کا تعاون بھی شامل تھا۔سیمینار میں سندھ انفارمیشن کمیشن کے اراکین محمد سلیم خان، نور محمد دایو سمیت مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کے رکن اور سینئر صحافی جئے پرکاش نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کے لیے لابنگ کرتے ہیں۔ ہمارے گروپ میں سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ہم قانون سازی، ملازمتوں میں اقلیتی کوٹے اور تعلیمی کوٹے پر عملدرآمد اور عوامی آگاہی کے حوالے سے کام کرتے ہیں۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ہمیں اقلیتی کوٹے کی خالی آسامیوں سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔ سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات سندھ اور موجودہ رکن سندھ انفارمیشن کمیشن محمد سلیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ عوامی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ شہری اپنی مطلوبہ معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی شہری متعلقہ ادارے کے پبلک انفارمیشن آفیسر (PIO) کو تحریری درخواست دے سکتا ہے۔ اگر معلومات فراہم نہ کی جائیں یا درخواست مسترد کردی جائے تو شہری میں سندھ انفارمیشن کمیشن سے رجوع کرسکتا ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ انفارمیشن کمیشن انفارمیشن ا

پڑھیں:

کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے

فائل فوٹو

کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔

نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر