پاکستان اور ایران نے ریلوے کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و انفرااسٹرکچر روابط بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والی ریجنل ٹرانسپورٹ وزرائے کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی اور ایران کی وزیر برائے روڈ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ فرزانہ صادق کے درمیان ملاقات میں ہوا۔

حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر بہتر ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ریلوے نظام 1917 سے ایران کے نیٹ ورک سے منسلک ہے، اس لیے انفرااسٹرکچر اور آپریشنل تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، 3 بچے جاں بحق، پاک ایران ریلوے رابطہ منقطع

دونوں ممالک کے وزرا نے مال برداری کے نظام کو وسعت دینے اور سرحد پار ریلوے روابط میں بہتری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا، تاکہ علاقائی تجارت کے راستوں کو مزید فعال کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ایک جامع منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس سے کارکردگی اور علاقائی تجارتی روابط میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی بندرگاہ سے فریٹ ٹرانسپورٹ کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی 884 کلومیٹر طویل روہڑی-کندی سیکشن پر کام شروع کر دیا جائے گا، جو سندھ کو جنوب مغربی بلوچستان سے جوڑے گا۔

پاکستان اور ایران، جو تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھتے ہیں، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں تاکہ خطے میں رابطوں اور معاشی انضمام کو فروغ دیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران پاک ایران ریلوے پاکستان حنیف عباسی ریلوے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران پاک ایران ریلوے پاکستان حنیف عباسی ریلوے پاکستان اور ایران

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ