پاکستان، ایران، ترکیہ فریٹ ٹرین دسمبر 2025ء میں دوبارہ چلے گی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے ملاقات کی۔ دو طرفہ ریلوے تعاون فریٹ آپریشنز اور تجارتی روابط پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے تعاون میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق ایرانی وزیر نے کہا کہ وسط ایشیائی ممالک ایران کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جڑ رہے ہیں۔ پاکستان اور ایران مل کر چین کو یورپ سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریلوے شعبے میں مشترکہ پلان پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے انفراسٹرکچر اور آپریشنز میں اشتراک بڑھانے پر غور کیا۔ دونوں ممالک نے ریلوے آپریشنز اور کمرشل سرگرمیوں میں اشتراک کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ تہران استنبول (آئی ٹی آئی) فریٹ ٹرین دسمبر 2025ء میں دوبارہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چابہار اور گوادر بندرگاہوں کو ریل یا سڑک کے ذریعے جوڑنے پر بات چیت کی گئی۔ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطوں کے فروغ کیلئے کوآرڈی نیشن میکنزم پر اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔