وزیراعلیٰ کے پی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا عمران خان سے ملاقات کے بعد صوبائی کابینہ تشکیل دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کے بعد صوبائی کابینہ تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں نے ملاقات کی جس میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، جنید اکبر، شہرام ترکئی اور عاطف خان سمیت دیگر موجود تھے۔
ملاقات میں ہنگو میں شہید پولیس افسر اور جوانوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ملاقات میں صوبے میں دہشت گردی اور امن وامان کی صورتحال زیر غور آئی جبکہ صوبائی کابینہ کی تشکیل اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ جیو نیوز کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد کابینہ تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا اورپی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی رائے کے بغیر کابینہ بنانے سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، پارلیمانی پارٹی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دی تھی لیکن بعد میں مسائل پیدا ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے امن جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا جس میں سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور قبائلی عمائدین کوشرکت کی دعوت دی جائے گی جبکہ جرگے میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
روسی تیل کی خریداری میں مغربی پابندیوں کی پاسداری کی جائے گی، ریلائنس انڈسٹریز کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
فائل فوٹواڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، جو 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق دوران ملاقات عمران خان اور بشریٰ بی بی نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔
دوسری طرف اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات کے دن کے موقع پر کسی وکیل اور فیملی ممبر کی ملاقات نہ ہوسکی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی کیلئے اڈیالہ جیل آئے تھے۔
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمی خان اڈیالہ جیل تو پہنچیں لیکن پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہ دی۔