Express News:
2026-06-03@04:18:28 GMT

پاک افغان جنگ بندی کا مستقبل؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد، قطر کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "دونوں فریقوں نے فوری طور پر فائر بندی پر اتفاق کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے جامع طریقہ کارطے کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

’اسٹمسن سینٹر‘ میں جنوبی ایشیا کے امور کی ڈائریکٹر الزبتھ تھریلیکیلڈ کا اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میں فائر بندی کے مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ پُر اُمید نہیں ہوں۔ ’’موجودہ منظرنامے میں کئی فریق شامل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ دیگر گروہ اس بات چیت اور اس کے نتیجے میں کیے جانے والے وعدوں کا حصہ نہیں ہیں جو دوحہ میں ہوئی ہے۔

لہٰذا ضروری نہیں کہ وہ خود کو افغان حکومت کے کسی معاہدے کے تابع کر لیں۔ یہ ذمے داری تو، افغان طالبان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اقدامات کریں اور ان سرگرمیوں کو روکیں۔ یہ انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ سرحد کی مکمل نگرانی بہت زیادہ مشکل ہے۔ پاکستان کی جانب سے باڑ لگانے کی کوششوں کے باوجود، اس قسم کی دراندازیوں کو روکنے کی صلاحیت اور افرادی قوت حاصل کرنا واقعی مشکل ہے۔"

اُن کا کہنا تھا کہ یہ طالبان کے لیے چیلنج ہوگا کہ وہ ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھیں، بشرطیکہ ان کے ارادے اچھے ہوں، تھریلیکیلڈ نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان ایسے مُسلح گروپوں کو قابو میں رکھیں جو پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں، جیسے کہ پاکستان طالبان (ٹی ٹی پی) اور دیگر۔ ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) باہمی تال میل کے ساتھ بلوچستان کے علاقوں میں سرگرم ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں رواں برس غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2025 شاید سب سے زیادہ ہلاکتوں کا سال بننے کے راستے پر ہے‘‘۔ تجزیہ کاروں اور سابق سفارت کاروں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ کچھ کمی بیشی کے ساتھ پاکستان کو طالبان کے مسئلے کا سامنا بدستور رہا ہے، اور یہ گمبھیر مسئلہ اس وقت تک تقریباً ناقابلِ حل رہے گا جب تک افغانستان سخت پوری دیانتداری کے ساتھ اقدامات نہیں کرتا۔ پاک افغان مسائل کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے والے زیادہ تر تجزیوں سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ افغانستان شاید درکار سخت اقدامات پر آمادہ نہیں ہے۔

حالیہ معاہدے کی اہم بات یہ ہے کہ ایک تو یہ تحریری شکل میں ہے اور دوسرے یہ کہ ثالثی کرانے والے ملکوں ترکیہ اور قطر نے معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے کی ذمے داری بھی اُٹھائی ہے۔دوسری طرف اس معاہدے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کی تفصیلات تاحال اندھیرے میں ہیں، یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی اہم سرکاری شخصیات اس معاہدے کو اپنی خواہشات کے مطابق رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔افغان وزیر دفاؑع مُلا یعقوب مجاہد نے ڈیورنڈ لائن کو فرضی قرار دیا۔

افغانستان میں طالبان حکومت زبانی تو عسکریت پسند گروہوں کی میزبانی کرنے کے الزام کی تردید کرتی ہے، لیکن شواہد اور زمینی حقائق بالکل مختلف کہانی سناتے ہیں۔ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے پاکستانی طالبان بھی کہا جاتا ہے، کے حملوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے آزاد ذرایع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو طالبان حکومت کی طرف سے مالی اعانت حاصل ہے اور اس کے جنگجو القاعدہ کی مدد سے افغانستان میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان، جو افغانستان سے متصل ہیں، نے اس تشدد کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھایا ہے۔ اسلام آباد کے تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق، رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں کم از کم 2,414 اموات ہو چکی ہیں۔

دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران پاکستان نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا، اور اس بات کا عملی مظاہرہ افغانستان کے اندر دہشت گروپوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے ذریعے کیا جا چکا ہے۔

یوں اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ایسی کسی کارروائی کا جواب دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کرے گا خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ اگر دیکھا جائے تو ٹی ٹی پی کی آئیڈیالوجی یوں تو افغان طالبان کے ساتھ ہم آہنگ ہے لیکن دونوں گروپوں کے مقاصد مختلف ہیں اور وہ آزادانہ طور پر کام کرنے پر بضد ہیں۔ اور یہی بات حالیہ بات چیت کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ 2001 میں جب طالبان کو امریکا کی قیادت میں نیٹو افواج نے اقتدار سے محروم کیا تو پاکستان کو طالبان کے سب سے بڑا حامی ہونے کے الزام کا سامنا تھا۔ پاکستان پر یہ الزام بھی تھا کہ اس نے طالبان کے جنگجوؤں کو اُس وقت پناہ فراہم کی تھی جب وہ افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف 20 سال تک مسلح بغاوت کرتے رہے تھے۔ لیکن بعد میں تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب پاکستان کے اندر حملوں میں اضافہ ہوا۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ افغان قیادت بھارت میں کھڑے ہو کر کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے رہی ہے۔

ٹی ٹی پی اس وقت پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بڑے چیلنج کے طور پر دوبارہ اُبھر کر سامنے آئی ہے، کیونکہ اس نے پچھلے سال سیکیورٹی فورسز کے خلاف 600 سے زائد حملے کیے ہیں، یہ بات ’آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا‘ (ACLED) کی رپورٹ میں کہی گئی ہے، جو ایک آزاد این۔ جی ۔ او ہے۔ سی آر ایس ایس کے مطابق، اس سال کی پہلے تین سہ ماہیوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں دہشت گردی کے واقعات میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ٹی ٹی پی کی کارروائیاں 2010 کی دہائی کے اوائل میں اپنے عروج پر تھیں۔ اس کے بعد حکومت نے مسلح گروپوں کو مذاکرات میں شامل کیا اور 2021 میں ان کے بعض مطالبات پر سنجیدگی سے توجہ دی گئی۔ طالبان چاہتے تھے کہ ان کے گرفتار ارکان کو رہا کیا جائے اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز ختم کر دیے جائیں۔

ان کوششوں کے نتیجے میں حملوں میں کمی آئی تھی۔ ٹی ٹی پی یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ 2018 میں قبائلی علاقے کو خیبر پختونخواہ کے ساتھ ضم کرنے کا فیصلہ بھی واپس لیا جائے تاکہ وہ ان علاقوں میں اسلامی شریعیت کی وہ صورت نافذ کر سکیں جو اُن کے خیال میں درست ہے۔

تشدد اس وقت بڑھا جب ٹی ٹی پی نے 2022 میں یکطرفہ طور پر یہ کہتے ہوئے فائر بندی کے معاہدے سے انکار کر دیا کہ حکومت علاقے میں دوبارہ آپریشنز کر رہی ہے۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے راستے افغان تجارتی راہداریاں بند ہیں جن کے باعث سیکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ یہ ایک طرح سے افغانستان پر دباؤ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاملات کو درست رکھے۔ یہ دباؤ دانشمندی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔

قطر اور سعودی عرب اس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اس لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ افغانستان کو جو بیرونی امداد میسر ہے اس میں بڑا حصہ انھی ملکوں سے آتا ہے۔

سیاسی اعتبار سے جو سب اہم ملک ہے وہ چین ہے۔ چین افغانستان کے تجارتی مستقبل کی بڑی اُمید ہے، اس لیے پاکستان کو چین کے ساتھ مل کر افغانستان پر دباو برقرار رکھنا ہو گا۔

خطے کی سیاست کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ آیا پاکستان افغانستان کو بھارت سے دور رکھنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ بھارت کو حالیہ تصادم میں پاکستان کے ہاتھوں جو ذلت اُٹھانا پڑی ہے اُس کا حساب برابر کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ایک اور اہم چیلنج پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال بھی ہے۔ مستقبل میں سامنے آنے والے ممکنا چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اندون ملک اتحاد، یکجہتی اور یکسوئی لازم ہے، بالخصوص کے پی کے کی حکومت اور تمام سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل کرنا لازم ہے۔

افغانستان کے میڈیا میں پاک افغان ٹکراؤ کے حوالے سے جو تاثر اُبھر کر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ’’جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ صرف ہارنے والے ہوتے ہیں۔ یہ منطق کہ افغانستان کو بمباری کرکے سرنڈر کرایا جائے گا، 20 سال تک امریکی قبضے کے دوران بھی کامیاب نہیں ہوئی‘‘۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان کے کہ افغانستان کہ پاکستان پاکستان کے طالبان کے حملوں میں یہ ہے کہ ا اضافہ ہوا کے مطابق کہ افغان ٹی ٹی پی کے ساتھ نے والے اور اس تھا کہ اس بات کے لیے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی