محاذ آرائی ترک کیے بغیر پی ٹی آئی کے لیے موجودہ بحران سے نکلنا ممکن نہیں، فواد چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
سابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنا ناگزیر ہوچکا ہے اور سیاسی جماعتوں سے مفاہمت اور مکالمہ ہی مسائل کا حل ہے، پی ٹی آئی کے لیے محاذ آرائی ترک کیے بغیر موجودہ بحران سے نکلنا ممکن نہیں۔
فواد چوہدری نے جہلم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پیدائشی سیاستدان ہیں اور سیاسی مسائل کا حل سیاست ہی میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل محاذ آرائی کے نتیجے میں صورتحال بند گلی کی طرف جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کرائے پر لائی گئی ہے، فواد چوہدری
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی ہمیشہ اولین ترجیح عمران خان کی رہائی رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی موجودہ قیادت میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ عمران خان کو رہا کرا سکے، اسی لیے وہ مسلسل مفاہمت کی بات کر رہے ہیں۔
فواد چوہدری کے مطابق مفاہمت، تلخی کم کرنے اور خودغرض سوشل میڈیا بیانیے کو خاموش کرانے میں ہی پی ٹی آئی کی بقا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس صرف مقبولیت حاصل کرنے کے لیے جذبات بھڑکا رہے ہیں، مگر یہ طرزعمل پارٹی کے لیے نقصان دہ ہے، فواد کے مطابق ہر نئی اشتعال انگیز ویڈیو یا تجزیہ پارٹی کی سیاسی گنجائش کم کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی اسپتال منتقل،کن سابق ساتھیوں نے ملاقات کی، معاملہ کیا ہے؟
سوال کے جواب میں انہوں نے فوری طور پر کہا کہ اگر وہ پی ٹی آئی سے باہر ہوتے تو آج کسی حکومت کا حصہ ہوتے، جیسے کئی اور رہنما بنے۔
پی ٹی آئی میں نئے سیاسی گروپ کی خبریںحال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے پرانے رہنما ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم بنا کر عمران خان کی رہائی کی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رپورٹس میں فواد چوہدری، اسد عمر، عمران اسماعیل، محمود مولوی اور سبتین خان کے نام شامل تھے۔
پی ٹی آئی کی وضاحت: فیصلے صرف عمران خان کےپی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ پرانے رہنما کوئی نئی سیاسی سرگرمی شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی میں فیصلے کا واحد مرکز عمران خان ہیں اور باقی تمام آراء غیر اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ فقط خود کو متعلقہ رکھنے کے لیے ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں، مگر ان کا پارٹی پر کوئی اثر نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم فواد چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی شیخ وقاص اکرم فواد چوہدری فواد چوہدری پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی انہوں نے کے مطابق رہے ہیں نے کہا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم