بھارت‘ مندر میں بھگدڑ‘ متعدد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت‘ مندر میں بھگدڑ‘ متعدد ہلاک
نئی دہلی: جنوبی بھارت کی ایک مندر میں بھگدڑ مچ جانے کے باعث متعدد افراد کے ہلاک اور درجنوں زخمی ہو نے کی اطلاعات ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنوبی بھارت میں گزشتہ روزایک مندر میںاچانک بھگدڑ مچ گئی۔ جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہو گئے ہیں۔ اعلیٰ حکام کے مطابق افسوسناک واقعہ آندھرا پردیش کی سری کاکولم ضلع میں واقع سوامی وینکٹیسوارا مندر میں پیش آیا، جہاں سیکڑوں عقیدت مند مذہبی تہوار میں شرکت کے لیے جمع تھے۔
انتظامیہ کے مطابق واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں لوگ مندر کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جس سے بڑے پیمانے پر بد نظمی پیدا ہوگئی۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ انتظامیہ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :