data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک /واشنگٹن /یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک/ آن لائن) امریکا میں34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ زہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود نیویارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت لیا اور نیویارک کے پہلے مسلم میئر منتخب ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ظہران ممدانی نے 486,741 جبکہ ان کے مدمقابل نیویارک کے سابق گورنر، آزاد امیدوار نیڈریو کومونے 396,177 ووٹ لیے، ری پبلکن کے کرٹس سلوا صرف79,281 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ نیویارک میئر کے الیکشن میں نئی تاریخ رقم ہوگئی جہاں2001ء کے بعد میئر کے انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔ پولنگ اسٹیشنز پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود رہی، 17 لاکھ سے زاید ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ زہران ممدانی کا یہ اعلان محض علامتی تھا۔ امریکی قوانین کے تحت نیویارک پولیس عالمی عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں کر سکتی اور نیتن یاہو کو بطور سربراہ مملکت سفارتی استثنا بھی حاصل ہے۔ نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ میں نیویارک کے ہر مزدور کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ٹرمپ سن لیں نیویارک تارکین وطن کا شہر ہے اور رہے گا، نیویارک میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں‘ ہم نے نیویارک میں تاریخ رقم کردی، عوام نے ثابت کردیا پاور ان کے ہاتھ میں ہے، نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، نیویارک اب وہ شہر نہیں رہا جہا ں آپ اسلاموفوبیا کے نام پر الیکشن جیتیں، کوئی ٹرمپ کو شکست دے سکتا ہے تو وہ نیویارک شہر ہے۔نیویارک کے نومنتخب میئر نے کہا کہ نیویارک کو تارکین وطن نے مضبوط کیا ہے، یکم جنوری سے ہم ایک ایسی شہری حکومت بنائیں گے جو سب کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے میئر الیکشن میں ریپبلکن امیدوار کی زہران ممدانی کے ہاتھوں شکست کی 2 وجوہات بتا دیں۔ جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’ووٹروں کے مطابق ریپبلکن کی شکست کی2 وجوہات ہیں — پہلی یہ کہ میں بیلٹ پر موجود نہیں تھا، اور دوسری وجہ ملک میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن ہے۔‘‘ادھر آزاد امیدوار اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ اینڈریو کومو نے بھی شکست تسلیم کرتے ہوئے زہران ممدانی کو مبارکباد پیش کی۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے بھی حالیہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی فتوحات پر مبارکباد دی اور زہران ممدانی سمیت کامیاب امیدواروں کی تعریف کی۔ نیویارک نے اپنا پہلا مسلم میئر منتخب کرلیا جس کے بعد ظہران ممدانی کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تصادم کی راہ ہموار ہوگئی اور منقسم ڈیموکریٹس کو امید ملی ہے۔ امریکی صدر نے بار بار ممدانی کو ’کمیونسٹ‘ قرار دیا اور ان کے منتخب ہونے کی صورت میں نیویارک شہر کی وفاقی فنڈنگ بند کرنے کی دھمکی دی۔اتوار کو ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے لیے بحیثیت صدر نیویارک کو بہت زیادہ پیسہ دینا مشکل ہوگا کیونکہ اگر آپ کے پاس نیویارک چلانے والا کمیونسٹ ہے توآپ صرف وہاں بھیجے جانے والے پیسے کو ضائع کر رہے ہیں‘۔ ظہران ممدانی کو اوباما اور کملا ہیرس سمیت دیگر ڈیموکریٹس کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں، اس کے باوجود کہ پارٹی کے کچھ سینئر شخصیات نے ان کی مہم کی توثیق کرنے سے گریز کیا تھا۔ نیویارک کے ڈیموکریٹ سینیٹرز چک شومر اور کرسٹن گلیبرانڈ نے ممدانی کی حمایت نہیں کی، شومر نے ممدانی کو مبارکباد دیتے ہوئے ایکس پر ان کی جیت کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ و سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے نیویارک سٹی میئر کا الیکشن جیتنے پر نوجوان مسلم ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے بھی سوشل میڈیا اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ جمہوریت کی کامیابی اور ظہران ممدانی کی متاثر کن مہم کا ثبوت ہے، دنیا کے عظیم ترین شہر کے اگلے میئر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ زاہران ممدانی کے میئر منتخب ہونے پر وال اسٹریٹ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ مالیاتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان کی پالیسیوں سے شہر کی کاروباری کشش متاثر ہو سکتی ہے۔ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوامی فلاح پر مبنی منصوبوں کا اعلان کیا تھا جن میں کرایوں میں منجمد کرنا، مفت بس سروس، یونیورسل چائلڈ کیئر اور شہر کے زیر انتظام گروسری اسٹورز کا قیام شامل ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے وزیر برائے تارکین وطن امور امیخائے چکلی نے زہران ممدانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں حماس کا ہمدرد قرار دیدیا۔ اسرائیلی وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ زہران ممدانی کی کامیابی نیویارک کی یہودی برادری کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے بقول نیویارک شہر کبھی آزادی کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہے جو اسرائیل مخالف مؤقف رکھتا ہے‘ یہ وہی نیویارک ہے جہاں 19ویں صدی میں یہودی پناہ گزینوں نے آزادی سے زندگی گزاری مگر اب اس شہر کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔انہوں نے نیویارک کے یہودیوں کو مشورہ دیا کہ حماس کے حامی زہران ممدانی کے میئر بننے پر تمام یہودی نیویارک چھوڑ کر اسرائیل منتقل ہونے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ خیال رہے کہ زہران ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئے تو عالمی عدالت کی تعمیل میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو نیویارک آمد پر گرفتار کرلیں گے۔ 33 سالہ زہران ممدانی، یوگینڈا میں پیدا ہوئے اور ان کا پس منظر مسلم و ہندو سیکولر روایات سے جڑا ہے۔ ان کے والد محمود ممدانی مشہور اسکالر اور کتاب ‘‘گڈ مسلم، بیڈ مسلم’’ کے مصنف ہیں جبکہ والدہ میرا نائر معروف فلم ساز ہیں جنہوں نے مون سون ویڈنگ اور دی نیمسیک جیسی عالمی سطح پر مقبول فلمیں بنائیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیویارک میں نے نیویارک نیویارک کے امریکی صدر ممدانی کو ممدانی کی نے کہا کہ کے میئر اور ان

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل