ٹرمپ کو دھچکا: نیویارک میں میئر کے تاریخ ساز انتخابات، مسلم امیدوار زہران ممدانی کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک /واشنگٹن /یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک/ آن لائن) امریکا میں34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ زہران ممدانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود نیویارک سٹی کے میئر کا انتخاب جیت لیا اور نیویارک کے پہلے مسلم میئر منتخب ہوگئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ظہران ممدانی نے 486,741 جبکہ ان کے مدمقابل نیویارک کے سابق گورنر، آزاد امیدوار نیڈریو کومونے 396,177 ووٹ لیے، ری پبلکن کے کرٹس سلوا صرف79,281 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ نیویارک میئر کے الیکشن میں نئی تاریخ رقم ہوگئی جہاں2001ء کے بعد میئر کے انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔ پولنگ اسٹیشنز پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود رہی، 17 لاکھ سے زاید ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ زہران ممدانی کا یہ اعلان محض علامتی تھا۔ امریکی قوانین کے تحت نیویارک پولیس عالمی عدالت کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں کر سکتی اور نیتن یاہو کو بطور سربراہ مملکت سفارتی استثنا بھی حاصل ہے۔ نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ میں نیویارک کے ہر مزدور کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ٹرمپ سن لیں نیویارک تارکین وطن کا شہر ہے اور رہے گا، نیویارک میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں‘ ہم نے نیویارک میں تاریخ رقم کردی، عوام نے ثابت کردیا پاور ان کے ہاتھ میں ہے، نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہوں، نیویارک اب وہ شہر نہیں رہا جہا ں آپ اسلاموفوبیا کے نام پر الیکشن جیتیں، کوئی ٹرمپ کو شکست دے سکتا ہے تو وہ نیویارک شہر ہے۔نیویارک کے نومنتخب میئر نے کہا کہ نیویارک کو تارکین وطن نے مضبوط کیا ہے، یکم جنوری سے ہم ایک ایسی شہری حکومت بنائیں گے جو سب کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے میئر الیکشن میں ریپبلکن امیدوار کی زہران ممدانی کے ہاتھوں شکست کی 2 وجوہات بتا دیں۔ جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’ووٹروں کے مطابق ریپبلکن کی شکست کی2 وجوہات ہیں — پہلی یہ کہ میں بیلٹ پر موجود نہیں تھا، اور دوسری وجہ ملک میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن ہے۔‘‘ادھر آزاد امیدوار اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ اینڈریو کومو نے بھی شکست تسلیم کرتے ہوئے زہران ممدانی کو مبارکباد پیش کی۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے بھی حالیہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی فتوحات پر مبارکباد دی اور زہران ممدانی سمیت کامیاب امیدواروں کی تعریف کی۔ نیویارک نے اپنا پہلا مسلم میئر منتخب کرلیا جس کے بعد ظہران ممدانی کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تصادم کی راہ ہموار ہوگئی اور منقسم ڈیموکریٹس کو امید ملی ہے۔ امریکی صدر نے بار بار ممدانی کو ’کمیونسٹ‘ قرار دیا اور ان کے منتخب ہونے کی صورت میں نیویارک شہر کی وفاقی فنڈنگ بند کرنے کی دھمکی دی۔اتوار کو ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے لیے بحیثیت صدر نیویارک کو بہت زیادہ پیسہ دینا مشکل ہوگا کیونکہ اگر آپ کے پاس نیویارک چلانے والا کمیونسٹ ہے توآپ صرف وہاں بھیجے جانے والے پیسے کو ضائع کر رہے ہیں‘۔ ظہران ممدانی کو اوباما اور کملا ہیرس سمیت دیگر ڈیموکریٹس کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں، اس کے باوجود کہ پارٹی کے کچھ سینئر شخصیات نے ان کی مہم کی توثیق کرنے سے گریز کیا تھا۔ نیویارک کے ڈیموکریٹ سینیٹرز چک شومر اور کرسٹن گلیبرانڈ نے ممدانی کی حمایت نہیں کی، شومر نے ممدانی کو مبارکباد دیتے ہوئے ایکس پر ان کی جیت کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ و سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے نیویارک سٹی میئر کا الیکشن جیتنے پر نوجوان مسلم ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے بھی سوشل میڈیا اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ جمہوریت کی کامیابی اور ظہران ممدانی کی متاثر کن مہم کا ثبوت ہے، دنیا کے عظیم ترین شہر کے اگلے میئر کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ زاہران ممدانی کے میئر منتخب ہونے پر وال اسٹریٹ میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ مالیاتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان کی پالیسیوں سے شہر کی کاروباری کشش متاثر ہو سکتی ہے۔ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوامی فلاح پر مبنی منصوبوں کا اعلان کیا تھا جن میں کرایوں میں منجمد کرنا، مفت بس سروس، یونیورسل چائلڈ کیئر اور شہر کے زیر انتظام گروسری اسٹورز کا قیام شامل ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے وزیر برائے تارکین وطن امور امیخائے چکلی نے زہران ممدانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں حماس کا ہمدرد قرار دیدیا۔ اسرائیلی وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ زہران ممدانی کی کامیابی نیویارک کی یہودی برادری کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے بقول نیویارک شہر کبھی آزادی کی علامت سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہے جو اسرائیل مخالف مؤقف رکھتا ہے‘ یہ وہی نیویارک ہے جہاں 19ویں صدی میں یہودی پناہ گزینوں نے آزادی سے زندگی گزاری مگر اب اس شہر کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔انہوں نے نیویارک کے یہودیوں کو مشورہ دیا کہ حماس کے حامی زہران ممدانی کے میئر بننے پر تمام یہودی نیویارک چھوڑ کر اسرائیل منتقل ہونے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ خیال رہے کہ زہران ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئے تو عالمی عدالت کی تعمیل میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو نیویارک آمد پر گرفتار کرلیں گے۔ 33 سالہ زہران ممدانی، یوگینڈا میں پیدا ہوئے اور ان کا پس منظر مسلم و ہندو سیکولر روایات سے جڑا ہے۔ ان کے والد محمود ممدانی مشہور اسکالر اور کتاب ‘‘گڈ مسلم، بیڈ مسلم’’ کے مصنف ہیں جبکہ والدہ میرا نائر معروف فلم ساز ہیں جنہوں نے مون سون ویڈنگ اور دی نیمسیک جیسی عالمی سطح پر مقبول فلمیں بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیویارک میں نے نیویارک نیویارک کے امریکی صدر ممدانی کو ممدانی کی نے کہا کہ کے میئر اور ان
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔