سندھ کی ثقافت رنگوں سے زیادہ کردار اور برداشت کی علامت ہے، مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یومِ ثقافت سندھ پر خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ سندھ کا آج صرف ثقافت کا دن نہیں بلکہ اپنی پہچان پر فخر کی تجدید ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج صدیوں کی تہذیب ہماری ذمہ داری بن کر سامنے کھڑی ہے، سندھ کی ثقافت رنگوں سے زیادہ، کردار اور برداشت کی علامت ہے، ہماری سرزمین نے دنیا کو امن اور محبت کا علم دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھی کلچر ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد ہماری اصل طاقت ہے، سندھ کی موسیقی، زبان اور روایتیں مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھی کلچر ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد ہماری اصل طاقت ہے، سندھ کی موسیقی، زبان اور روایتیں مستقبل کی سمت متعین کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی شناخت کسی ایک دن کی نہیں یہ ہر دل میں دھڑکتی ایک تاریخ ہے، ہم سب آج ایکتا کے سچے معنی دنیا کو دکھا رہے ہیں، ہم نے ماضی کو زندہ رکھا ہے یہی سندھ کی شان ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی ثقافت پوری دنیا میں بسنے والے امن چاہنے والوں کی آواز ہے، یہ تہذیب صدیوں کی مسافت طے کر کے پہنچی ہے اس کو مزید روشن کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سندھ کی ثقافت کہا کہ سندھ نے کہا کہ مراد علی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔