پاکستان کا تعاون نہیں بھلا سکتے، پزشکیان محسن نقوی کی ملاقات، افغان وزیر سے بھی ملے
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ جس میں پاک ایران تعلقات اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایران اور پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے شراکت دار ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ ایران اپنے بھائی کے بے پایاں تعاون کو فراموش نہیں کر سکتا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تعاون کو فروغ دینے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے وزرائے داخلہ نے تہران میں اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے مصافحہ بھی کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاک افغان مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ جس طرح ہر گھر میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں، انہیں بھی بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے نے کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔