data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251030-01-19
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کم کرانے میں تعاون کی پیشکش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، اس دوران پاک-ایران تعلقات اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محسن نقوی نے ایران کے صدر کو پاک-افغان بارڈر کے حوالے سے بریفنگ دی، ایرانی صدر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرانے کے حوالے سے برادرانہ کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ محسن نقوی نے ایرانی صدر سے تعاون کی پیشکش پر اظہار تشکر کیا اور وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ ایران اور پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے شراکت دار ہیں۔ اس موقع پر صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور کسی بھی تنازع سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں، ایران اپنے بھائی کے بے پایاں تعاون کو فراموش نہیں کر سکتا۔ صدر مسعود پزشکیان نے دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تعاون کو فروغ دینے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ نے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی اور ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے الگ الگ ملاقاتیں کی، اس دوران پاک-ایران تعلقات اور سیکورٹی تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ، انسداد دہشتگردی، انسداد منشیات اور بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے داخلی سیکورٹی کے امور پر باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ ملاقات میں باہمی تعاون کے لیے مشترکہ روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی سمیت انسداد منشیات کے لیے ایران کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل ایران نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت خوش آئند ہے۔ ایرانی وزیر داخلہ نے ای سی او وزارتی کانفرنس میں شرکت پرپاکستانی ہم منصب محسن نقوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جلد اپنے بھائی سے ملنے اسلام آباد آؤں گا۔ اس موقع پر ایرانی ٹی وی سے گفتگو میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اختلافات تو گھروں میں بھی ہوتے ہیں، برادر ملکوں کی طرح انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرلیا جائے گا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صدر مسعود پزشکیان محسن نقوی نے ایرانی صدر وزیر داخلہ کی پیشکش

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار