پاکستان میں تیار شدہ ڈرون جیمر ’’صفرا‘‘ کی شاندار لانچ، جدید دفاعی کامیابی قرار
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنا بنایا ہوا جدید ڈرون جیمر گن ’’صفرا‘‘ متعارف کرادیا۔
یہ شاندار ایجاد پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس اینڈ ایکسپو (پائمیک) کے دوران پیش کی گئی، جہاں ملکی و غیرملکی ماہرین نے اس نئی ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
’’صفرا‘‘ نامی یہ ڈرون جیمر گن نیشنل الیکٹرونکس کمپلیکس آف پاکستان (نیلکاپ) کے ماہر انجینئرز نے تیار کی ہے، جو دور اڑنے والے ڈرونز کو ریڈیائی لہروں کے ذریعے مکمل طور پر مفلوج کرکے زمین پر اتارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کراچی ایکسپو سینٹر میں ہونے والی اس تقریب میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ’صفرا‘ کی عملی آزمائش بھی کی گئی، جس میں ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے ڈرون کو چند لمحوں میں جیمر گن کے نشانے پر لاکر ناکارہ بنادیا گیا۔
شرکا نے اس کامیاب مظاہرے پر نیلکاپ کے ماہرین کو زبردست داد دی اور اسے پاکستان کے دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا۔
نیشنل الیکٹرونکس کمپلیکس آف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف مغل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس جدید آلے کا نام ’’صفرا‘‘ دراصل نبی کریم ﷺ کے اس کمان کے نام پر رکھا گیا ہے، جس سے تیر چلائے جاتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب یہ گن فائر کی جاتی ہے تو اس سے خارج ہونے والی ریڈیائی لہریں ایک کمان کی شکل اختیار کرلیتی ہیں، جو ڈرون کے نظام کو مفلوج کرکے زمین کی طرف موڑ دیتی ہیں۔
ڈاکٹر آصف مغل نے بتایا کہ صفرا گن بیک وقت جی پی ایس، ریڈیو اور ویڈیو سگنلز کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ڈرون کو محض جام نہیں کرتی بلکہ اسے محفوظ انداز میں زمین پر اترنے پر مجبور بھی کردیتی ہے۔ اس میں نصب دو طاقتور بیٹریاں علیحدہ علیحدہ 40 منٹ تک فعال رہتی ہیں، جس سے طویل آپریشنز کے دوران بھی کارکردگی برقرار رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’’صفرا‘‘ کی مؤثر رینج تقریباً 1500 میٹر بلندی تک پھیلی ہوئی ہے، جب کہ 550 میٹرز افقی اور 350 میٹرز عمودی حدود میں موجود تمام ڈرونز کے کنٹرول اور ویڈیو سسٹمز مکمل طور پر جام ہوجاتے ہیں۔
اس مظاہرے کے بعد پاکستانی ماہرین نے یقین کا اظہار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی ملک کے دفاعی نظام میں نیا باب ثابت ہوگی، خاص طور پر ان سرحدی اور حساس علاقوں کے لیے جہاں غیر قانونی ڈرون سرگرمیاں قومی سلامتی کے لیے چیلنج بن رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی