2026 میں چین کی ڈیزائن کردہ پہلی آبدوز پاک بحریہ میں شامل ہوگی، نیول چیف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون میں تیزی آچکی ہے اور 2026 میں چین کی ڈیزائن کردہ پہلی آبدوز پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل ہو جائے گی۔
چینی سرکاری میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ایڈمرل نوید اشرف نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کے شعبوں میں بھی چین کے ساتھ تعاون بڑھایا جا رہا ہے، چینی دفاعی ساز و سامان قابلِ اعتماد اور جدید ثابت ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ آبدوزیں 5 ارب ڈالر مالیت کے 8 ہنگور کلاس آبدوزوں کے معاہدے کا حصہ ہیں جو 2028 تک پاکستان کے بیڑے میں شامل ہوں گی، جن میں سے 4 آبدوزیں چین میں جبکہ باقی پاکستان میں اسمبل ہوں گی تاکہ مقامی تکنیکی صلاحیت بھی بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ ان آبدوزوں کی شمولیت سے بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند میں پاکستان کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔