ڈنڈے کے زور پرقانون کے نفاذ کی کوشش ہمیشہ ناکام ہوئی ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ ، جنرل سیکرٹری یاسرکھاراایڈووکیٹ نے صوبائی حکومت کی طرف سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوںکی شرح عائدکرنے اور ایف آئی آرزدرج کرنے کے فیصلہ کوعوام دشمنی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ معصوم بچوںکو ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوںمیںپیش کرکے کون سے قانون کی پاسداری کی جارہی ہے۔ ڈنڈے کے زور پر قانون کے نفاذ کی کوشش ہمیشہ ناکام ہوئی ہے۔حکمران یاد رکھیں بھوک سے بلکتا ہوا عوامی طبقہ جب اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو تاج و تخت پلٹ دیتا ہے۔حکومت کے فیصلے سڑکوں پر کھڑی غریب عوام کی جیب پر ڈاکہ ہیں۔ جس قوم کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے جنگ لڑ رہے ہوں، ان پر ہزاروں کے جرمانے مسلط کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک نظام کی بہتری کے نام پر عوام پر دہشت مسلط کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ٹریفک اصلاحات نہیں بلکہ خزانے بھرنا ہے، عوام کو لوٹنے کا یہ منظم نظام اب مزید نہیں چلے گا۔ٹریفک وارڈنزکو جرمانے پورے کرنے کا ٹارگٹ دینا قانون کو کاروبار بنا دینے کے مترادف ہے۔ قانون جب انصاف چھوڑ کر کاروبار بن جائے تو پھر انقلاب آیا کرتے ہیں ۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کئے گئے بھاری جرمانوں کی پالیسی عوام کیلئے نئے عذاب کے مترادف بن چکی ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں اس قدر بھاری چالان عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ شہریوںکی طرف سے ٹریفک قوانین کی پابندی اور نظم و ضبط ضروری ہے مگر سزا کا بوجھ عوام کی قوتِ خرید کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ عوام کے مسائل میںاضافہ نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔