بھارت میں سفاک شوہر نے بیوی کو قتل کرکے لاش فیس بک لائیو آکر دکھائی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بھارتی ریاست تمل ناڈو میں پیش آنے والے ایک واقعے نے مودی سرکار میں خواتین کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ مظالم کی قلعی کھول کر رکھ دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ویمن ہاسٹل سے ایک خاتون کی خون میں لت پت لاش ملی تھی جسے بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔
یہ لاش شری پریا نامی خاتون کی تھی جو اپنے شوہر سے جھگڑے کے بعد گھر چھوڑ کر ہاسٹل میں رہ رہی تھی۔
سفاک شوہر بالاموروگن ناراض بیوی کو منانے ویمنز ہاسٹل پہنچا تھا جہاں دونوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
غصے میں آکر بالاموروگن نے درانتی نکال کر بیوی پر پہ در پہ وار کیے جس سے خاتون کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔
قتل کی اس ہولناک واردات کی سفاکیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بالاموروگن فیس بک پر لائیو آیا اور بیوی کی تڑپتی ہوئی لاش دکھائی جو کچھ دیر بعد ٹھنڈی ہوگئی۔
درندہ صفت ملزم نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ لاش کے ساتھ اپنی ایک سیلفی بھی لی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر لگایا۔
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق سفاک شوہر نے کیپشن میں لکھا کہ بیوی نے دھوکا دیا تھا جس کی سزا یہی ہے۔
بعد ازاں ملزم نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اور تھانے میں بھی اپنی بیوی پر کسی دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات کا الزام لگایا۔
پولیس نے ملزم کا بیان قلم بند کرکے تفتیش کاآغاز کردیا لیکن بھارت میں خواتین کا قتل اور جنسی زیادتی کے واقعات عام ہیں جن کے ملزمان ہمیشہ قانون سے بچ نکلتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔