ماہ دسمبر سیاسی اعتبارسے بڑھا اہم رہے گا ،غلام مرتضی جتوئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)دسمبر اہم ہوگا وقت نے میری بات سچ ثابت کر دی ہے 27 ویں کے بعد 28 ترمیم آ رہی ہے، سابق وفاقی وزیراور این پی پی سربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی نے عدالت میں شنوائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ماہ دسمبر سیاسی اعتبار سے بڑھ اہم رہے گا 27 ترمیم پاس ہوگئی 28 ترمیم کی تیاریاں ہورہی ہیںمذکورہ ترمیم میں کچھ چیزیں رہ گئی تو 29 ویں ترمیم بھی آ سکتی ہے این ایف سی ایوارڈ، نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال ہے شاید کچھ منصوبے ہیں جن پر عمل درآمد کرایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی بار الیکشن میں شکست ہوئی ، وفاقی اور صوبائی حکومتیں، اسیمبلیاں عوام کے حقوق کیلئے قانون سازی کریں کیونکہ عوام بھوک اور بدحالی کا شکار ہیں لیکن غریب عوام کیلئے سوچنے کی بجائے یہاں پر محلات بن رہے ہیں مخالفین پر جھوٹے مقدمات بن رہے ہیں لیکن فتح حق و سچ کی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان