پاکستان کی نامور مارننگ شو میزبان ندا یاسر نے اپنے متنازع بیان پر فوڈ ڈلیوری رائیڈرز سے معافی مانگ لی۔

گزشتہ کئی برسوں سے اپنے پروگرام کے ذریعے مقبول رہنے والی ندا یاسر حال ہی میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کے بارے میں ایک سخت بیان دینے کے باعث شدید تنقید زد میں تھیں۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز اکثر جان بوجھ کر کھلے پیسے نہیں رکھتے تاکہ انہیں زیادہ ٹپ مل سکے‘۔ ندا نے مشورہ دیا کہ لوگ یا تو پہلے سے کھلے پیسے رکھیں یا رائیڈر سے اضافی رقم ساتھ لانے کا کہہ دیں۔

ان کے اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا صارفین سمیت فوڈ ڈلیوری رائیڈرز نے بھی شدید ردِعمل دیا تھا اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

View this post on Instagram

A post shared by TOUQEER.

OFFICIAl (@touqeer1142)


اب ندا یاسر نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے بیان سے متعلق وضاحت پیش کرتے ہوئے فوڈ دلیوری رائیڈرز سے معافی مانگ لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ آپ سے شیئر کیا تھا جو واقعاً برا تجربہ تھا لیکن وہاں مجھ سے لفظوں کے چناؤ میں کوتاہی ہوگئی۔

ندا یاسر نے کہا کہ ایسی کوتاہی عام زندگیی میں ہوجاتی ہے، میرا شو لائیو ہوتا ہے، ریکارڈڈ نہیں۔ میں نے جب رائیڈرز سے متعلق اپنا برا تجربہ شیئر کیا تو اس میں یہ لفظ کہنا چاہیے تھا کہ ’کچھ لوگ ایسا کرجاتے ہیں‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ میں نے پوری رائیڈرز کمیونٹی کو برا نہیں کہا۔ زیادہ تر ایسے رائیڈرز ہیں جو بہت ایماندار ہیں اور محنت مشقت کرکے پیسے کمارہے ہیں۔

ندا یاسر نے مزید کہا کہ میں یہاں کسی کا دل دکھانے نہیں بیٹھی، لیکن میں انسان ہوں فرشتہ نہیں ہوں، اس لیے کبھی کبھار لفظوں کے ہیر پھیر کی وجہ سے دل کی بات غلط انداز میں زبان پر آجاتی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ میری وجہ سے میرے رائیڈرز بھائیوں کا دل دکھا ہے تو میں ان سے سچے دل سے معذرت کرتی ہوں، پلیز اپنی بہن کی چھوٹی سی غلطی سمجھ کر معاف کردیے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ندا یاسر نے رائیڈرز سے انہوں نے سے معافی کہا کہ

پڑھیں:

لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل

لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔

سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔

بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سید عباس عراقچی کا اپنے آذربائیجانی ہم منصب کے نام تہنیتی پیغام
  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق