ثقافتی اور سماجی امتزاج کے حامل روایتی اطالوی کھانے یونیسکو کے ثقافتی ورثے میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اٹلی کے روایتی کھانوں کو باضابطہ طور پر یونیسکو نے ’غیر مادی ثقافتی ورثہ‘ قرار دے دیا ہے، جس سے ملک کو عالمی سطح پر مزید شناخت اور سیاحوں کی توجہ حاصل ہونے کی امید ہے۔
اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے انسٹاگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ ہم دنیا میں پہلے ملک ہیں جنہیں یہ اعزاز ملا ہے، جو ہماری شناخت کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پائن ایپل پیزا پر اطالوی عوام کیوں تقسیم ہوگئے؟
میلونی کے مطابق اطالویوں کے لیے کھانا محض خوراک یا تراکیب کا مجموعہ نہیں بلکہ ’ثقافت، روایت، محنت اور دولت‘ کی علامت ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یہ فیصلہ نئی دہلی میں ہونے والے یونیسکو کے ثقافتی پینل کے اجلاس میں کیا گیا، جو 2023 میں اٹلی کی جانب سے شروع کیے گئے عمل کا نتیجہ ہے۔ اٹلی نے اپنی کھانوں کی روایت کو ایک ایسے سماجی عمل کے طور پر پیش کیا جو خاندانوں اور کمیونٹیز کو جوڑتا ہے۔
یونیسکو نے کسی مخصوص ڈش یا علاقائی پکوان کا ذکر نہیں کیا بلکہ اطالوی عوام کی کھانے کے روزمرہ معمولات سے وابستگی کو سراہا جیسے اتوار کا بڑا خاندانی لنچ، نانیوں اور دادیوں کا بچوں کو ٹورٹیلینی بنانے کی روایتی تکنیک سکھانا، اور روزانہ مل بیٹھ کر کھانا کھانے کا عمل۔
یہ بھی پڑھیے: ’بوفے کا کھانا اپنے بیگ میں مت ڈالیں‘، سوئٹزرلینڈ کے ہوٹل کا بھارتی سیاحوں کو انتباہ
یونیسکو نے اپنے اعلان میں اطالوی کھانوں کو ’ثقافتی اور سماجی امتزاج‘ قرار دیا۔
اس فیصلے سے اٹلی کی معیشت کو مزید فائدہ پہنچنے کا امکان ہے، جہاں زرعی و غذائی سپلائی چین پہلے ہی قومی مجموعی پیداوار کا تقریباً 15 فیصد حصہ رکھتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
traditional italian dish اٹلی روایتی کھانے طعام کھانا یونیسکو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلی روایتی کھانے کھانا یونیسکو
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل